مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 103
١٠٣ اذا ما بكى من خلفها انصرفت له بشق و تحتى شقها لم تحول پڑھنے کو تو یہ شعر میں نے پڑھ ہی دیا مگر اس حالت کو کوئی کیا سمجھ سکتا ہے۔جب انہوں نے کہا کہ اس شعر کا ترجمہ کرو۔میں نے میاں محمد کی طرف دیکھا اور انہوں نے منہ کے سامنے کوئ چیز کر کے گردن جھکائی اور مسکرائے۔وہ بھی خاموش اور میں بھی چپ۔منشی صاحب کی طبیعت بہت ہی نیک تھی۔وہ فورا سمجھ گئے کہ یہ کوئی فحش شعر ہو گا اور بات کو ٹلا دیا اور سلسلہ کلام شروع کر دیا۔اس روز مجھ کو یہ سبق ملا کہ بات کو منہ سے نکالنے میں انسان کو بہت زیادہ عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہیے۔گو بعض اوقات زیادہ غور و خوض انسان کو نقصان بھی پہنچا دیتا ہے مگر اس کی تلافی دعاؤں سے ہو سکتی ہے۔مجھ کو اپنی اس حرکت پر بڑی حیرت رہی۔مگر انکی شرافت دیکھو کہ کسی دن بھی انہوں نے اس شعر کے متعلق مجھ سے نہ پوچھا۔بھوپال میں میں دو دفعہ گیا ہوں۔طالب علمی میں تو یہی کافی ہے کہ میں نے بخاری اور ھدایہ مولوی عبد القیوم صاحب سے پڑھیں اور حدیث مسلسل بالا ولیت میں نے وہاں کے مفتی صاحب سے کی فجزاه الله احسن الجزاء جو انہوں نے محمد بن ناصر حضرمی سے روایت کی۔محمد بن ناصر حضرمی کا ایک قصہ مجھ کو منشی صاحب نے سنایا کہ ایک مرتبہ وہ میرے مکان پر آئے۔چونکہ بڑے نیک اور مشہور آدمی تھے۔میں نے ایک ہزار روپیہ کی تھیلی ان کے سامنے رکھی۔یہ دیکھ کر ان کے چہرہ پر بڑا تغیر اور خفگی کے آثار نمایاں ہوئے۔میں نے وہ تحصیلی فورا اٹھا کر اپنے سامنے رکھ لی تو ان کے چہرہ پر بشاشت کے آثار نمایاں ہوئے اور میں ہنس پڑا۔وہ کہنے لگے کہ تم کیوں ہے۔میں نے کہا کہ میں نے روپیہ آپ کے سامنے رکھا تو آپ کے چہرہ پر تغیر نمایاں ہوا اور جب میں نے روپیہ اٹھالیا تو آپ کے چہرہ پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے۔فرمانے لگے کہ ہاں ہمارا ارادہ تھا کہ آپ کے پاس آیا کریں گے اور آپ کو