مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 102

١٠٢ دن انہوں نے کسی آدمی سے دریافت کیا کہ نور الدین عصر کی نماز کہاں پڑھتا ہے۔اس نے کہا کہ توشہ خانہ کے پاس کی مسجد میں۔میں وہاں عصر کی نماز پڑھتا تھا۔خود منشی صاحب میرے دہنی طرف آکر بیٹھ گئے۔میں نے جو سلام پھیرا اور کہا کہ السلام علیکم و رحمہ اللہ فوراً فرمانے لگے آخاہ ! آپ نے تو ابتدا کر دی۔میرا ہاتھ پکڑ کر اٹھالیا۔ایک بگھی جس کو وہاں چرٹ کہتے تھے اس میں اپنے ساتھ سوار کر کے شہر سے باہر بہت دور لے گئے۔باہر جا کر مجھے سے کہا کہ آپ نے تو کل سے ہم کو بھوکا رکھا۔میں نے کہا کہ آپ کی محفل میں شاہ اسحاق صاحب کی برائی ہوتی ہے اور میں تو شاہ صاحب کا عاشق ہوں۔منشی صاحب نے فرمایا۔آپ نے شاہ اسحاق صاحب کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں۔کہا میں نے تو شاہ صاحب کی خدمت میں قرآن شریف پڑھا ہے۔میں شیعہ تھا اور سخت شیعہ تھا مگر ہمارا گھر دہلی میں ایسی جگہ تھا کہ شاہ صاحب کے سامنے سے ہو کر جانا پڑتا تھا۔آخر میں شاہ صاحب کے درس میں شریک ہوا اور انہیں کی صحبت کا نتیجہ ہے کہ میں موجوہ حالت کو پہنچا۔پھر اپنا سارا قصہ تشیع کا اور سنی ہونے کا سنایا اور کہا کہ میں شاہ صاحب کا بہت معتقد ہوں۔لیکن وہ ایک سرکاری معاملہ تھا۔جس میں اس وقت مجھ کو بولنا مناسب نہ تھا اور یہ لوگ ایسے ہی ہیں۔ان کی باتوں کی طرف زیادہ التفات نہیں چاہیے۔یہ کہہ کر بگھی کو لوٹایا اور مجھے کو اپنے مکان پر لے گئے۔کھانا کھایا اور مجھ سے کہا کہ آپ ایسی باتوں کا زیادہ خیال نہ کیا کریں۔میں نے ان کی قرآن شریف کی آیتوں سے محبت اور وقاف للقرآن ہونا اس طرح دیکھا کہ مجھ کو یاد نہیں کہ کسی اور کو ایسا دیکھا ہو۔ایک دفعہ میں منشی جمال الدین صاحب کے ساتھ ان کے باغ میں جانا تھا۔راستہ میں انہوں نے پوچھا کہ حَتَّى إِذَا مَا جَاءُوهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ میں جس طرح ما سے پہلے اذا آیا ہے عربی کے کسی شعر میں اس کی مثال موجود ہے ؟ بچپن کی حالت بھی کیا بری ہوتی ہے۔میں اور ان کا نواسہ محمد نام بگھی میں ایک سیٹ پر بیٹھے تھے اور مقابل کی سیٹ پر نشی صاحب تھے۔میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔