مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 101
لئے جگہ دی۔اور اپنے مستم کتب خانہ کو حکم دیا کہ کسی کتاب سے انکو مت روکو۔میں نے کہا میرے پاس بھی کتابیں ہیں۔ایک دکان پر میں نے اپنا سامان رکھ دیا ہے۔اس دکاندار کو کچھ دینا ہو گا۔وہاں سے سامان منگوادیں جو دینا ہو گا میں دے دوں گا۔تھوڑی دیر کے بعد سب سامان مع کتابوں کے پہنچ گیا اور میں ان کے توشہ خانہ میں رہنے لگا۔حضرت مولوی عبد القیوم صاحب سے میں نے بخاری اور ہدا یه دو کتابیں شروع کیں۔حضرت منشی صاحب مغرب کے بعد خود قرآن شریف کا لفظی ترجمہ پڑھایا کرتے تھے۔ایک روز میں بھی اس درس میں چلا گیا۔وہاں یہ سبق تھا۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ محمد عمران کا نواسہ قاری تھا۔میں نے کہا کیا اجازت ہے ہم لوگ کچھ سوال بھی کریں ؟ منشی صاحب نے فرمایا بخوشی۔میں نے کہا یہاں بھی منافقوں کا ذکر ہے اور نرم لفظ بولا ہے۔یعنی بَعْضُهُمْ إِلى بَعْضٍ اور اس سورۃ کے ابتدا میں جہاں انہیں کا ذکر ہے وہاں بڑا تیز لفظ ہے۔اِذَا خَلَوْا إِلى شَيْطِيْنِهِمُ اس نرمی اور تختی کی کیا وجہ ہو گی ؟ منشی صاحب نے فرمایا کیا تم جانتے ہو ؟ میں نے کہا۔میرے خیال میں ایک بات آتی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو قسم کے منافق تھے ، ایک اہل کتاب ایک مشرک۔اہل کتاب کے لئے نرم یعنی بعضھم کا نرم لفظ اور مشرکین کے لئے سخت إلى شيطينهم بولا ہے۔منشی صاحب سن کر اپنی مسند پر سیدھے کھڑے ہو گئے اور میرے پاس چلے آئے۔مجھ سے کہا کہ آپ وہاں بیٹھیں اور میں بھی اب قرآن شریف پڑھوں گا۔قدرت الہی ہم وہاں ایک ہی لفظ پر قرآن کریم کے مدرس بن گئے۔نشی صاحب کو دن بدن مجھ سے محبت بڑھتی جاتی تھی۔ان کے دربار میں ایک روز کوئی اخلاقی مسئلہ پیش ہوا۔میں بھی وہاں موجود تھا۔قاضی شہر نے شاہ اسحاق صاحب کی نسبت کوئی سخت لفظ بولا۔صرف اتنی غیرت پر میں وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔کھانے کے وقت میں منشی صاحب کے یہاں نہیں گیا۔وہ مجھ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ اس روز خود بھی کھانا نہیں کھایا۔میں زمانہ سے نا تجربہ کار مجھ کو خبر نہیں کہ وہ مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں۔دوسرے