مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 100

میں چل نہیں سکتا۔اس نیک انسان نے کہا کہ آپ میری پیٹھ پر سوار ہو جائیں۔چنانچہ میں اس کی پشت پر سوار ہو گیا اور وہ مجھ کو خوب احتیاط سے لے گیا۔وہاں کھانا دستر خوان پر چنا جا چکا تھا۔اس سپاہی نے لے جا کر مجھ کو منشی صاحب کے پاس ہی بٹھا دیا۔میں نے اس وقت بہت غور کیا کہ کیا چیز ہے جو کھاؤں۔پلاؤ کے ساتھ مجھ کو رغبت تھی۔میں نے پلاؤ کی رکابی میں سے لقمہ اٹھایا۔جب منہ کے قریب لے گیا تو ڈرا کہ ایسا نہ ہو گلے میں پھنس جائے اور جان نکل جائے۔اس واسطے پلاؤ کے لقمہ کو پھینک دیا۔پھر جو غور کیا تو ایک برتن میں مرغ کا شور ہا تھا۔میں نے اس کو اٹھا لیا اور ایک بہت چھوٹا سا گھونٹ بھرا۔تو میری آنکھوں میں روشنی سی آگئی۔پھر ایک اور گھونٹ بھرا۔اسی طرح آہستہ آہستہ میں نے اس کو پینا شروع کیا۔منشی صاحب نے اپنے باورچی کو بلایا اور دریافت کیا کہ اس پلاؤ میں کیا نقص ہے۔اس نے کہا کہ اس میں نقص تو کوئی نہیں ہاں اس کے مرغ میں کسی قدر داغ لگ گیا تھا۔چونکہ یہ برتن بڑا ہے اور چاولوں کی زیادہ مقدار اس میں ہے۔میں نے وہ داغ لگا ہوا گوشت نیچے دبا دیا ہے۔منشی صاحب نے اس میں سے ایک لقمہ اٹھا کر سونگھا۔مگر ان کو کچھ محسوس نہ ہوا۔وہ یہ سمجھے کہ اس نے سونگھ کر اس نقص کو محسوس کیا اور لقمہ چھوڑ دیا۔پھر انہوں نے باورچی سے کہا کہ ان تمام کھانوں میں سب سے عمدہ پکا ہوا کھانا کونسا ہے۔اس نے کہا شوربا۔جس کا پیالہ ان کے ہاتھ میں ہے۔خیر میں نے وہ شور با قریباً تمام ہی پی لیا اور وہ اس وقت میرے لئے بہت ہی مفید ہوا۔میرے ہوش و حواس اور قومی ٹھیک ہو گئے۔جب کھانے سے سب فارغ ہو گئے تو اور لوگوں کو ہٹا دیا اور مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو۔کہاں سے آئے ہو۔ان دنوں میرا لہجہ اردو کا لکھنوی طرز پر تھا۔میں نے کہا کہ میں ایک پنجابی آدمی ہوں اور یہاں پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔یہ بات میرے لئے بہت ہی مفید ہوئی۔منشی صاحب کو یہ گمان تھا کہ یہ کوئی آسوده حال صدمہ رسیدہ اور حوادث کا پامال ہے۔پڑھنے کا یونہی نام لیا ہے ورنہ یہ خود عالم ہے۔تب انہوں نے فرمایا کہ آپ میرے پاس رہیں اور میرے ساتھ ہی کھانا کھایا کریں۔جہاں آپ کو پڑھنا ہو گا میں کوشش کر دوں گا۔ان کا ایک توشہ خانہ تھا۔اس میں رہنے کے