مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 99
٩٩ کا موقع نہ ملا۔ایک دن میں نے دل میں یقین کیا کہ آج شائد شام تک نہ بچوں گا۔اس باجی کی مسجد میں ایک چبوترہ تھا۔عصر کے بعد میں ٹیک لگا کر اس چبوترہ میں بیٹھ گیا اور پھر لیٹ گیا۔میرے بدن سے پسینہ جاری تھا اور خیال تھا کہ شام تک شائد ہی زندہ رہوں۔اسی وقت وہاں منشی جمال الدین مدار المهام نماز کے لئے آئے اور نماز پڑھ کر اپنے امام صاحب کو میرے پاس بھیجا۔اس وقت میں تو جان سے بھی بیزار تھا۔لہذا امام صاحب نے جو کچھ مجھ سے کہا۔اس کا جواب میں نے بہت روکھا سوکھا دیا۔معلوم نہیں کہ امام صاحب نے کیا جا کر کہا ہو گا۔مگر ان کے پہنچتے ہی منشی صاحب مع اپنے ہمراہیوں کے خود میرے پاس چلے آئے۔ضعف کے باعث میں اٹھ نہیں سکتا تھا اور میری عادت بھی نہ تھی۔امام صاحب نے ہی آگے بڑھ کر مجھ سے کہا کہ منشی صاحب آتے ہیں۔میں نے کہا آنے دو۔منشی صاحب آئے اور میں لیٹا ہی رہا۔منشی صاحب نے کہا آپ پڑھے ہوئے ہیں۔میں نے کہا ہاں۔پھر انہوں نے کہا آپ کیا کیا علوم جانتے ہیں۔میں نے کہا بھی کچھ جانتا ہوں۔تب انہوں نے اپنی نبض مجھ کو دکھائی۔مجھے یہ تو یاد نہیں میں نے نبض کسی احتیاط سے دیکھی۔اس روز ان کو بہت بد ہضمی ہو چکی تھی۔میں نے نبض دیکھ کر کہا کہ بد ہضمی ہے۔انہوں نے مجھ سے نسخہ طلب کیا۔میں نے ان کو نسخہ لکھوا دیا جو بہت قیمتی تھا۔انہوں نے کہا۔اگر فائدہ نہ کرے۔میں نے اس کا جواب نهایت سختی سے دیا۔پھر انہوں نے کہا آپ علم مساحت جانتے ہیں؟ میں نے کہا جانتا ہوں۔سامنے تالاب تھا جو بہت بڑا تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ یہاں بیٹھ کر اس تالاب کی مساحت کر سکتے ہیں۔میں نے کہا ہاں۔میں نے ایک قاعدہ کی طرف اشارہ کیا کہ یہ تو ایک قلم کے ذریعہ سے کر سکتے ہیں۔بس اس کے بعد وہ سب لوگ چلے گئے۔راستہ سے انہوں نے کہلا کر بھیجوایا کہ ہم آپ کی ضیافت کرتے ہیں۔میں نہ اٹھ سکتا تھا نہ جاسکتا تھا۔میں نے کہا مجھ کو ضیافت کی کوئی ضرورت نہیں۔تب انہوں نے کہلا کر بھجوایا کہ مسنون دعوت ہے۔میں نے سوچا۔مرتے تو ہیں آخر وقت سنت پر تو عمل ہو اور کہا کہ بہت اچھا دعوت منظور ہے۔غالباً دن ابھی بہت باقی تھا کہ ایک سپاہی آیا اور کہا کہ کھانا تیار ہے ، چلو۔میں نے اس سے کہا کہ