مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 85 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 85

۸۵ ہوں۔میں اب تک کلن خاں کا ثناخواں ہوں اور میں اس کو عنایت ایزدی سمجھتا ہوں۔اب مصیبت یہ پڑی کہ میرا سبق رات کو یا دو پہر کو بہت دور ایک مقام پر ہو تا تھا۔ان شب بیداریوں نے مجھے بیمار کر دیا اور مجھے سر کا مرض لاحق حال ہو گیا جس سے میں بہت تنگ ہوا۔میں نے وہاں تحقیقات کی کہ آجکل ہندوستان میں بڑا عالم طبیب کون ہے۔اس محدود جماعت میں سوائے حکیم علی حسین صاحب لکھنوی کے کسی کا نام نہ سنا۔مگر سب نے یہ بھی کہا کہ ان کے ہاتھ میں شفا نہیں اور مجھے جلد معلوم ہو گیا کہ ان کے پاس مسلول اور مد فوق یا مجزوم یا ذیا بیطس کے گرفتار ہی اکثر پہنچتے ہیں۔سوایسے بیماروں میں کامیابی کی کمی ان کے نقص کے سبب نہیں۔بیماری نے تو لا چار کرہی رکھا تھا۔میں رامپور سے مراد آباد چلا گیا اور وہاں ایک خد اتعالیٰ کا بندہ عبد الرشید نام ساکن بنارس مجھے اسماعیل نام ایک پنجابی نوجوان تاجر کے ذریعہ ملا۔جس نے میری خدمت والدین کے برابر کیا، بڑھ کر کی اور میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ میں اچھا ہو گیا۔عمدہ صحت کے بعد میں نے لکھنو کا قصد کیا۔میرے مکرم دوست عبد الرحمن خان مالک مطبع نظامی میرے بھائی کے دوست تھے۔انکے پاس کانپور میں ٹھہرا۔انہوں نے حکیم صاحب حکیم علی حسین صاحب لکھنوی) کی بہت تعریف کی اور دوسرے دن گاڑی میں سوار کرا کر لکھنو روانہ کیا۔کچی سڑک اور گرمی کا موسم گر دو غبار نے مجھے خاک آلودہ کر دیا تھا کہ میں لکھنو پہنچا۔جہاں وہ گاڑی ٹھری وہاں اترتے ہی میں نے حکیم صاحب کا پتہ پوچھا۔خدائی عجائبات ہیں کہ جہاں گاڑی ٹھری تھی ، اس کے سامنے ہی حکیم صاحب کا مکان تھا یہاں ایک پنجابی مثل یاد کرنے کے قابل ہے کل کرے اولیاں رب کرے سولیاں " میں اسی وحشیانہ حالت میں مکان میں جا گھسا۔ایک بڑا ہال نظر آیا۔ایک فرشتہ خصلت دلربا حسین سفید ریش ، نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے ایک گدیلے پر چار زانو بیٹھا ہوا۔پیچھے اس کے ایک نہایت نفیس تکیہ اور دونوں طرف چھوٹے چھوٹے تکیے تھے۔سامنے پاندان اگالدان خاص دان، قلم دوات کاغذ دھرے ہوئے۔ہال کے کنارے کنارے جیسے کوئی التحیات میں