مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 84
A۴ مگر وہاں میرا کوئی سکوت کارگر نہ ہوا۔ایک دن مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم جو مولوی محمد اسماعیل صاحب کی اس قدر تعریف کرتے اور اتنی عقیدت رکھتے ہو۔کیا تم نے ان کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا۔نہیں کہا ہم تو ان سے علم میں زیادہ ہیں۔میں نے کہا۔ہاں۔آپ ان سے علم میں زیادہ بھی سہی لیکن یہی تو ان کا جذب ہے کہ میں ان کے مقابلہ میں آپ کو یا کسی کو نہیں سمجھتا۔یہ سن کر مولوی صاحب بہت ہی خفا ہو گئے۔میں ان سے صرف اصول شاشی کا سبق پڑھنے جایا کرتا تھا۔میں تو اپنی کتاب کھول کر پڑھنے لگا۔تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب ٹھنڈے ہو گئے۔طلباء میں ایک عبد القادر خاں تھے۔وہ آسودہ حال بھی معلوم ہوتے تھے۔جہاں میں نماز پڑھاتا تھا۔اس محلہ میں ایک شخص کلن خاں رہتے تھے جو بے چارے سیدھے سادھے کچھ ان پڑھ سے تھے۔ایک روز عبد القادر خاں نے کلن خاں کو علیحدہ لے جاکر سمجھایا کہ یہ طالب علم جو نماز پڑھاتا ہے اس قابل نہیں کہ اس کی عزت کی جائے کیونکہ اس کا مولوی ارشاد حسین سے کئی مسائل میں تنازع ہے۔کلن خاں نے کہا کہ ہماری مسجد میں کوئی طالب علم جماعت نہیں کراتا۔عبد القادر خاں نے میرا پورا پتہ بتایا اور نام لیا۔کلن خاں نے اپنی تلوار نکال کر عبد القادر خاں کو دکھلائی اور کہا کہ وہ مسئلے تو یہاں تلوار کی دھار پر لکھے ہوئے ہیں۔آپ پڑھنا چاہیں تو ہم ابھی پڑھانے کو موجود ہیں پڑھ لیں۔عبد القادر خاں بے چارہ ایک شریف انسان تھا۔وہ بھاگ گیا اور پھر مکتب میں خود ہی مجھ سے یہ سب واقعہ بیان کر دیا۔میرا خیال تھا کہ کلن خاں صاحب بھی مجھ سے ذکر کریں گے۔لیکن انہوں نے قطعاً مجھ سے ذکر نہیں کیا حالانکہ روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔جب بہت دن گزر گئے تو میں نے ہی کلن خاں سے کہا کہ میرے متعلق عبد القادر خاں سے کچھ آپ کی باتیں ہوئی تھیں؟ کلن خاں نے ہنس کر کہا کہ ہاں وہ آپ کے متعلق کچھ کہنے لگا تھا مگر رہ گیا۔اگر ذرا زیادہ زبان ہلاتا تو فورا اس کا سر اڑا دیتا۔میں نے کہا کہ آپ کو ایسا نہیں چاہیے تھا۔اگر خدانخواستہ یہ بات نواب صاحب تک پہنچتی تو آپ کو مشکل پیش آتی۔کہا کہ نہیں جناب ہمارا سارا محلہ ذبح ہو جائے گا تب کوئی آپ کو ہاتھ لگا سکے گا۔نواب صاحب ہوں یا کوئی 1