مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 80 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 80

۔کچھ دنوں کے بعد انکی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ نورالدین! تم بہت دنوں میں آئے۔اب تک کہاں تھے؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت ہم طالب علموں کو اپنے درس تدریس کے اشغال سے فرصت بھی کم ہی ملتی ہے۔کچھ مجھ سے سستی بھی ہوئی۔فرمانے لگے کبھی تم نے قصاب کی دکان بھی دیکھی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں اکثر اتفاق ہوا ہے۔فرمایا کہ تم نے دیکھا ہو گا کہ گوشت کاٹتے کاٹتے جب اس کی چھریاں کند ہو جاتی ہیں تو وہ دونوں چھریاں لے کر ایک دوسری سے رگڑتا ہے۔چھریوں کی دھار پر جو چربی جم جاتی ہے اس طرح رگڑنے سے وہ دور ہو کر چھریاں پھر تیز ہو جاتی ہیں اور قصاب پھر گوشت کاٹنے لگتا ہے اور اسی طرح تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چھریوں کو آپس میں رگڑ کر تیز کرتا رہتا ہے۔میں نے عرض کیا کہ ہاں حضرت یہ سب کچھ دیکھا ہے مگر آپ کا اس سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا کچھ ہم پر غفلت کی چربی چھا جاتی ہے، کچھ تم پر۔جب تم آجاتے ہو تو کچھ تمہاری غفلت دور ہو جاتی ہے کچھ ہماری اور اس طرح دونوں تیز ہو جاتے ہیں۔پس ہم سے ملتے رہا کرو اور زیادہ عرصہ جدائی اور دوری میں نہ گزارا کرو۔ان کی اس بات نے مجھے بہت ہی بڑے بڑے فائدے پہنچائے اور ہمیشہ مجھ کو یہ خواہش رہی کہ نیک لوگوں کے پاس آدمی کو جاکر ضرور بیٹھنا چاہیے۔اس سے بڑی بڑی ستیاں دور ہو جاتی ہیں۔۔دوسری بات جو رامپور میں بڑی عجیب نظر آئی یہ تھی کہ ایک طالب علم میرے دوست تھے۔وہ پڑھنے میں کچھ ست ہو گئے۔میں نے ان سے وجہ دریافت کی۔تو کہا کہ میں ایک حسین لڑکے پر عاشق ہو گیا ہوں۔بدوں اس کے دیکھے دل بے تاب رہتا ہے اور اس کی ملاقات کسی طرح میسر نہیں ہو سکتی۔اس لئے پڑھا نہیں جاتا۔میں یہ سن کر بہت دلیری کر کے اٹھا اور اس لڑکے کے پاس چلا گیا۔اپنے دوست کو بھی ہمراہ لے گیا اور اس لڑکے سے کہا کہ یہ ہمارے دوست ہیں۔آپ پر عاشق ہو گئے ہیں۔اس لئے ان سے پڑھنے میں محنت نہیں ہوتی اور میری یہ خواہش ہے کہ ان کے پڑھنے کا حرج نہ ہو۔لہذا میں انکی سفارش کرتا ہوں کہ یہ عصر کے بعد آپ کے پاس آجایا کریں گے اور شام تک آپکی دکان پر بیٹھ کر مغرب کے