مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 26
PY صرف ایمان و ایقان باللہ اور کتاب اللہ کے بھروسہ پر۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ سرسید کی کوئی حقارت مد نظر ہے یا ان کی نیت پر حملہ مقصود- بلکہ میرے نزدیک وہ اپنی نیت میں بہت نیک اور اپنی کوششوں میں عند اللہ ماجور ہونے والے ہیں۔انہوں نے جو کچھ کیا۔غالبا" نیک نیتی سے اور اپنے نزدیک بہتر سمجھ کر کیا۔لیکن ایک انسان جب تک تائیدات غیبی شامل حال نہ ہوں اور خدائے تعالی کی طرف سے اس کی رہبری نہ ہو اپنی محدود اور نا تمام عقل سے کہاں صراط مستقیم پر پہنچ سکتا ہے؟ قرآن کریم کی طرف سے بے توجہی اور دعاؤں کو غیر ضروری سمجھنے نے اکثر مسلمانوں کو کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔ہماری شریعت کسی قسم کی دنیوی ترقی کی مانع ہرگز نہیں بلکہ ہر قسم کی دنیوی ترقی کے اصول بھی قرآن کریم اور صرف قرآن کریم ہی میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔اس موقع پر ضرورت معلوم ہوتی ہے کہ تفصیلی طور پر قرآن کریم کی عظمت ہستی باری تعالیٰ اور صفات حسنہ باری تعالیٰ پر ایمان اور سچے مسلمان کی تعریف بیان کی جائے۔مگر چونکہ اصل مدعائے نگارش سے قرب ہونا مد نظر اور گنجائش اوراق مختصر ہے۔نیز کتاب کے مطالعہ کرنے والے زیادہ تر وہی لوگ فرض کئے گئے ہیں جو ان باتوں کے متعلق آگاہی رکھتے اور جانتے ہیں کہ ہم دعاؤں کے بدوں کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے اور قرآن کریم اور سنت و حدیث کو چھوڑ کر فلاح دارین تک نہیں پہنچ سکتے۔لہذا صرف اس قدر اشارہ کافی ہے کہ وہ اس زمانہ کے ایک کامل انسان ( امیرالمومنین سیدنا نور الدین کی لائف کو پڑھیں اور دیکھیں کہ اس باخدا اور مرد کامل کی لائف ان کے لئے بہترین نمونہ ہے یا نہیں ؟ اور اس کے قدم بقدم چل کر وہ بچے پکے مسلمان بن سکتے ہیں اور فلاح دارین حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ حضور امیر المومنین کی سوانح عمری کا مرتب و شائع ہونا کس قدر ضروری کام تھا اس کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔مکرمی شیخ یعقوب علی صاحب نے جب کبھی الحکم میں حيات النور کا ذکر کیا ہے لوگوں میں خوشی اور بے تابی کے آثار دیکھے گئے ہیں۔لیکن چونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مولانا مولوی