مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 294
۲۹۴ اس شرابی کو آواز دی۔وہ کھڑکی کے قریب گیا۔اس نے چپکے سے اس سے کوئی مختصر سی بات کی جو میں نے نہ سنی۔وہ شرابی اس وقت بعجلت تمام اترا اور صرف اپنا ٹکٹ لئے ہوئے اسٹیشن سے باہر گیا اور شہر کی طرف دوڑتا ہوا چلا گیا۔میرے ساتھی نے کہا کہ بس۔اب آپ اطمینان رکھیں۔یہ یہاں واپس نہ آئے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وہاں گاڑی بہت دیر ٹھری اور چل بھی دی لیکن وہ شرابی اسٹیشن پر واپس نہ آیا لیکن اس میرے ہمراہی شخص نے مجھے کو یہ نہ بتایا کہ اس نے کیا الفاظ کہلوائے تھے۔(۷) مئی ۱۹۰۹ء) مسلمانوں میں بدکاری کی بہت عادت ہو گئی ہے۔اور پھر بد کاری کو بد کاری بھی نہیں سمجھتے۔میں نے ایک شخص کو نصیحت کی کہ تو فلاں عورت سے ناجائز تعلق نہ رکھ۔اس نے کہا کہ اس عورت نے تو اپنی برادری اور قوم کو چھوڑ کر وفاداری کا ثبوت دیا اور میں مرد ہو کر اس کو چھوڑ دوں اور بے وفائی کروں؟ یہ اقرار باللسان و تصديق بالقلب کے خلاف ہے۔(۲۱) فروری ۱۹۱۲ء) ہندوستان میں مراد آباد ایک شہر ہے۔وہاں میرا ایک بڑا محسن تھا جس نے بیماری میں میری بڑی بڑی خدمتیں کی ہیں۔میں بیماری کی حالت میں وہاں رہتا تھا۔وہاں ایک عورت ہر روز صبح اٹھ کر پاخانہ میں جا کر قدیمہ کے آگے سجدہ کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میا کھڑی اتو مجھ کو بیٹا دے تو تجھ میں ہوگا یا کروں گی۔(۱۰ مئی ۱۹۰۹ء) ایک شخص کسی بزرگ کی اولاد میں سے تھے اور سخت بیمار تھے۔میں نے ایک مرتبہ ان