مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 266

۲۶۶ میں اس کو بڑی بڑی باتیں سنائیں۔آخر میں اس نے مجھ سے کہا کہ آپ کا پاجامہ نیچا ہے۔میں نے کہا تم نے میری باتوں سے کوئی نصیحت بھی حاصل کی؟ کہا کہ میں تو اسی خیال میں رہا کہ کوئی اعتراض کروں۔(۱۴) مئی ۱۹۰۹ء) میں نے ریل میں ایک شخص کو قرآن شریف کا ایک نکتہ سنایا۔اس نے کہا کوئی طب کی بات سناؤ کیونکہ قرآن تو تم جانتے ہی نہیں۔میں نے کہا کیسے؟ کہا کہ میں قاری ہوں آیت کے پڑھنے میں فلاں حرف کا مخرج آپ کا صحیح نہیں تھا۔۱۳۰ مئی ۱۹۰۹ء ضلع شاہ پور میں ایک مولوی صاحب کسی عورت کے معاملہ میں ماخوذ ہوئے۔انہوں نے میرے ایک دوست سے کہا کہ ہمارے لئے دعا کرو کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔میں دونوں کو جانتا ہوں یعنی دعا کرنے اور دعا کرانے والے کو۔میرے دوست نے مجھ سے کہا کہ دعا تو میں نے بہت کی ہے لیکن میں نے نظارہ دیکھا ہے کہ گدھی ہے اور ایک گدھا ہے۔اس گدھے کو لوگ پکڑتے ہیں اور وہ بھاگتا ہے۔میں نے سن کر کہا کہ خواب یا کشف آپ کا صحیح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَشْفَارًا۔اس مولوی کو انہوں نے اصل بات تو نہ سنائی یہ کہہ دیا کہ نتیجہ کچھ اچھا نہیں معلوم ہوتا۔چنانچہ اس مولوی کو کئی سال کی قید ہو گئی۔(۸/ نومبر ۱۹۱۲ ء در خطبه جمعه ) ریل میں مجھ کو ایک کنچنی ملی۔میں نے کہا تو کہاں گئی تھی؟ کہنے لگی۔سبحان اللہ ! فلاں حضرت کے یہاں گئی تھی۔انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ ہماری فقیر نی آگئی اور حکم دیا کہ اس