مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 255
۲۵۵ دیکھا نہیں۔یہ جس قدر مونچھوں کو تاؤ دینے والے ہوتے ہیں، کہنیوں کے ساتھ تاش۔چو سر - شطرنج کھیلنا خوب جانتے ہیں۔بہادر نہیں ہوتے۔پھر ایک چھوٹے سے پتلے دبلے آدمی کو دیکھایا کہ بس یہ ایک شخص بہادر میں نے دیکھا ہے۔یہ شیر کی طرح حملہ کرتا ہے۔(۱۴ جولائی ۱۹۱۲ء) ایک ڈاکٹر جو کشمیر میں گورنر تھا وہ عورتوں مردوں کی مساوات کا بڑا ہی قائل تھا۔وہ ایک خیمہ میں بیٹھا ہوا عورت مرد کی مساوات کے متعلق بہت زور دے کر تقریر کر رہا تھا۔میں وہاں اتفاقا چلا گیا۔وہ اس وقت تک مجھ کو پہچانتا نہ تھا۔میں نے آہستگی سے پوچھا کہ حضور کا کوئی بیٹا ہے؟ اول تو اس کو میرا لباس وغیرہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہ کون وحشی سا آدمی ہے جو با قاعدہ انٹروڈیوس ہوئے بدوں مخاطب ہے مگر اس نے آخر کہہ دیا کہ ہاں میرے ایک بیٹا ہے۔میں نے کہا وہ آپ کی بیوی کے پیٹ سے ہی پیدا ہوا ہو گا؟ اب اس کو اور بھی تعجب ہوا مگر اس نے کہہ دیا کہ ہاں۔میں نے بڑی جرات کے ساتھ فورا اٹھ کر خوب زور سے اس کی چھاتیوں کو پکڑ کر مروڑا۔میں جانتا تھا کہ وہ جسم میں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں۔اب تو وہ بہت گھبرایا لیکن میری جرأت کو دیکھ کر حیران بھی تھا۔مجھ سے کہا یہ کیا بات ہے ؟ میں نے کہا اب تو آپ کی باری ہوگی کہ بچہ جنیں۔میں یہ دیکھتا ہوں۔کہ آپ کی چھاتیوں میں دودھ اتر آیا یا نہیں؟ اور کچھ کچھ کا سامان شروع ہے یا نہیں ؟ اس نے اس امیر سے جس کے خیمہ میں آیا ہوا تھا۔پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ بڑے آدمی ہیں۔میں کیا بتاؤں یہ خود ہی تادیں گے۔اب تو وہ اور بھی زیادہ حیران ہوا۔مجھ سے کہنے لگا کہ آپ اپنا نام بتا دیں۔میں نے کہا ہم فقیر آدمی ہیں۔جب اس نے باصرار کہا تو میں نے کہا کہ میرا نام نورالدین ہے۔نام میرا وہ چونکہ خوب جانتا تھا۔کہنے لگا کہ آپ تو بڑے عالم ہیں۔میں نے کہا کہ آپ نے اپنی ساری علمیت کا زور عورت مرد کی مساوات میں صرف کیا۔میری دلیل کا بھی آپ کوئی جواب دے سکتے ہیں ؟ کہا آپ کی دلیل کا تو کوئی جواب نہیں دے سکتا۔