مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 246 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 246

تو مہاراج نے مجھے کو آواز دے کر کہا کہ مولوی صاحب! آپ نذر دکھلاتے ہیں یا روپیہ دیکھتے ہیں۔میں نے بے ساختہ کہا کہ مہاراج روپیہ کو دیکھتا ہوں کہ یہ روپیہ ہی ہے جس کی وجہ سے مجھ کو نذر دکھلانے کی ضرورت پیش آئی۔یہ سن کر فور امہاراج نے کہا کہ ہاں! آپ کو نذر دکھلانے کی ضرورت نہیں۔آپ تو نذر دکھلانے سے آزاد ہیں۔سب ہنس پڑے اور اس طرح بات ہنسی میں ٹل گئی اور مجھے کو نذر بھی نہ دکھلانی پڑی۔(۴) اکتوبر ۱۹۱۲ء) میں جموں میں تھا۔وہاں ایک روز راجہ کے سامنے ایک شخص مسمی مرزا پیارے نے ستار بجایا۔راجہ نے ستارسن کر کہا کہ مرزا صاحب آپ نے خوب ستار بجایا۔مرزا صاحب نے جھک کر سلام کیا۔بس اسی حالت میں سر جھکائے او ر ہا تھ اٹھائے ہوئے دم نکل گیا۔۸) مئی ۱۹۰۹ قبل مغرب بعد درس) کشمیر میں میرے پاس ایک نوجوان رہتا تھا۔میں نے اس کو بار بار سمجھایا کہ ہمارے پاس رہتے ہو۔قرآن شریف پڑھا کرو۔وہ ٹالتا ہی رہتا تھا۔میں کشمیر سے وطن کو آنے لگا۔وہ جوان بھی میرے ساتھ چلا۔راستہ میں ایک مقام اور ھم پور ہے ہم وہاں اترے۔وضو کیا۔نماز پڑھی۔وہیں ڈاک آئی جس میں اس کی نوکری کا پروانہ آیا۔وہ بڑا خوش ہوا۔اور ھم پور سے ہم چل دیئے۔وہ جوان میرے ڈر سے سفر میں ایک حمائل اپنے گلے میں لٹکائے رکھتا تھا۔جب اور ھم پور سے کئی چڑھائیاں اور کئی اتار ہم طے کر چکے اور نیچے اتر کر ایک تالاب کے کنارے زرا دم لینے اور آرام کرنے کے لئے ٹھہرے تو اس لڑکے نے کہا کہ مولوی صاحب میرا قرآن شریف تو وہیں درخت سے لٹکا ہوا رہ گیا جہاں نماز پڑھی تھی۔مگر خیر میں اب لاہور جاتے ہی سب سے پہلا کام یہ کروں گا کہ ایک نہایت عمدہ سا قرآن شریف خریدوں گا۔میں نے کہا۔بس اب تم کو قرآن شریف پڑھنے کا موقع نہ ملے گا۔قرآن شریف