مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 19
۱۹ تمهید علم ریاضی انسان کے دماغ میں ایک موزونیت اور اسباب سے نتائج تک پہنچنے کی قابلیت پیدا کر دیتا ہے۔علم ادب خوش سلیقگی و نفاست پسندی سکھاتا اور علم اخلاق انسان کو نافع الناس - متین و سنجیدہ بنا کر بے ضرر اور لوگوں کی نگاہوں میں محبوب بنا دیتا ہے۔علوم طبعیہ ذکاوت و باریک بینی پیدا کرتے ہیں۔لیکن علم تاریخ کو تمام دینی و دنیوی علوم کا جامع اور ہر ایک مفید نتیجہ کا مورث کہا جا سکتا ہے۔انسان میں خدائے تعالیٰ نے مختلف اقسام کے قومی اور بے شمار استعدادیں ودیعت فرمائی ہیں۔ہر ایک استعداد جبکہ بے کار چھوڑ دی جائے اور کام میں نہ لائی جائے تو مردہ ہو جاتی ہے۔یہ کاشت کارجن کو ساری ساری عمر کھیت کی محدود زمین گنتی کے چند مویشیوں، گاؤں کے متعدد چھپروں اور چوپال میں شام کو آکر حقہ پینے والے چند لنگوٹ بند بھائی بندوں کے سوا دنیا کے علوم و ترقیات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انہیں میں اکثر ایسی استعداد والے دماغ بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان استعدادوں کو جگا کر ان سے کام لیا جاتا تو ارسطو و بیکن اور تمبورو نپولین کے برابر یا ان سے بھی بڑھ چڑھ کر کارنامے دنیا کو دکھاتے اور اہل عالم کو محو حیرت بناتے۔بڑے بڑے عالم و فاضل اور معزز خاندانوں کے یتیم اور لاوارث بچوں کو دیکھا گیا ہے کہ ابتداء بڑے ذہین اور اپنے باپ دادا کے قدم بقدم ترقیات کی راہیں طے کرنے والے نظر آتے ہیں۔لیکن سامان و اسباب کا میسر نہ آنا اور ناہموار صحبتوں کے بدنتائج ان کو انجام کار خاک مذلت سے اٹھنے اور گوشہ گمنامی سے نکلنے نہیں دیتے۔سلطنت روما سے بھی پہلے کا قدیم زمانہ یورپ میں جابجا درختوں کی جڑیں کھانے والے اور درختوں کے پتے جسم کو لپیٹنے والے ایسے وحشی پیش کرتا ہے جن کو بن مانس سے کچھ تھوڑا ہی سا اونچے درجے پر بٹھا سکتے ہیں۔لیکن اگر ان میں استعدادیں نہ تھیں تو آج وہی ساری دنیا کے استاد کیسے بن گئے ؟ صوبہ سرحدی کے جاہل پٹھان جب لکھ پڑھ جاتے ہیں تو کسی علمی معرکہ میں اپنے ہم چشموں سے پیچھے نظر نہیں آتے۔اس بات کے