مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 218
PIA (۹) نومبر ۱۹۱۳ء) ہمارے ایک استاد مولوی تھے ہم پڑھنے کے لئے سفر میں ان کے ساتھ پھرا کرتے تھے۔وہ ایک علاقہ میں گئے۔کسی کی چوری کی بھینسیں واپس کرانی تھیں۔ہم سب ان کے ساتھ تھے۔انیس دن وہاں مقیم رہے۔گاؤں والوں نے کہا۔بھینسیں یہاں نہیں ہیں۔ہر چند کوشش کی مگر نہیں ملیں۔آخر ایک دوسرے طالب علم نے مجھ سے کہا کہ بھینسیں تو آج شام سے پہلے آجائیں گی۔میں نے کہا کس طرح؟ کہا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جہاں کوئی قریشی اذان کہتا ہے وہ بستی ویران ہو جاتی ہے۔آج دائرہ (چوپال) کے سامنے چل کر میں کہوں گا۔آج ہی۔تم کہنا آج نہیں۔چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ایک شخص سن کر دو ڑا ہوا آیا۔اس طالب علم نے دریافت کرنے پر جواب دیا کہ یہ ہمارا ساتھی قریشی ہے اور اب اذان دینے کا ارادہ ہے۔وہ یہ سن کر دوڑا ہوا واپس گیا اور ہم سے کہتا گیا کہ ذرا آپ ٹھہرے رہیں۔تھوڑی دیر میں واپس آیا اور کہا کہ بھینسیں آج ہی آجائیں گی۔آپ اذان نہ دیں۔چنانچہ بھینسیں آگئیں اور مولوی صاحب کے سپرد کر دی گئیں۔ار اگست ۱۹۰۸ء در خطبه جمعه ) میرے ایک پیر بھائی نے مسجد نبوی میں نماز پڑھتے ہوئے رکوع یا مجدہ میں دیکھا کہ خود انہیں کا جنازہ لائے ہیں۔حتی کہ انہوں نے خود اس جنازہ کا منہ کھول کر دیکھا۔میرے وہ پیر بھائی حضرت شاہ عبد الغنی صاحب کے داماد تھے۔انہوں نے شاہ صاحب سے کہا کہ میں نے ایسا دیکھا ہے اور جنازہ کا منہ کھول کر دیکھا تو پسینہ آرہا تھا اور اس پسینہ سے یہ پڑھا جاتا تھا مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمُ الله شاہ صاحب نے فرمایا کہ تمہاری موت کا وقت بہت قریب آگیا ہے۔چنانچہ وہ تھوڑی دیر کے بعد مرگئے۔میں نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے کیسے سمجھا۔کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کو پسینہ آتا ہے۔