مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 201
ڈاکو تھا۔اس کو سب دیکھنے کے لئے گئے۔میں بھی گیا تھا۔یہ یاد نہیں کہ میں خود گیا یا کوئی لے گیا۔میں بڑی گھمسان میں کھڑا ہوا اس کو دیکھ رہا تھا۔(۵) اکتوبر ۱۹۱۲ء) ایک مرتبہ جبکہ میں بچہ تھا ایک مولوی نے کہا کہ تم بھی ختم میں چلو۔میں چلا گیا۔وہاں لوگ قرآن شریف پڑھ رہے تھے۔میں نے بھی ایک سپارہ لیا۔ابھی میں نے آدھا ہی پڑھا تھا کہ بعض نے دو۔بعض نے چار پڑھ لئے۔قریب سے ایک نے غصہ کے ساتھ مجھ سے سپارہ لیا اور کہا کہ تم نہیں جانتے۔لاؤ میں پڑھ دوں۔اس نے لے کر ویسے ہی ورق لوٹنے شروع کر دئیے اور جھٹ سپارہ ختم کر کے رکھ دیا۔(۲۳) جنوری ۱۹۰۹ ء بعد مغرب) ہم مکتب میں پڑھا کرتے تھے۔ایک دفعہ ہمارے استاد نے ہم کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے بھیجا۔ہم میں ایک لڑکا تھا۔اس نے وضو کر لینے کے بعد سب کو مخاطب کر کے کہا کہ یا رو کیسی نماز ؟ کون نماز پڑھتا ہے۔یہ کہہ کر اس نے اپنی پیشانی ایک کچی دیوار سے رگڑی۔مٹی کا نشان ماتھے پر نظر آنے لگا۔جس سے یہ معلوم ہو تا تھا کہ یہ مسجد میں نماز پڑھ کر آیا ہے۔اس نے ہم سب کو نماز نہ پڑھنے اور جھوٹ بولنے کی اٹکل سکھائی۔پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بڑا نامی گرامی چور ہوا اور ہمارے شہر کے تمام چوروں اور بد معاشوں میں اس کا نمبر سب سے اول تھا۔ایک مرتبہ وہ ایک قلعہ کی دیوار سے کودا اور اس کو قید کی سخت تکلیف اٹھانی پڑی۔میری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ نماز دل سے پڑھو۔(۶) جنوری ۱۹۱۲ء) میں جب بچہ تھا تب مجھے کو ایک کتاب پڑھائی گئی تھی جس میں لکھا تھا کہ -