مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 186
TAY جاتا ہے۔ان کے پاس روپیہ نہ ہو گا۔اس لئے تم ان کا سب سامان گھر جانے کا کر دو اور جس قدر روپیہ کی ان کو ضرورت ہو دے دو۔اور اسباب کو اگر وہ ساتھ نہ لے جاسکیں تو تم اپنے اہتمام سے بحفاظت پہنچوا دو۔میں نے کہا۔مجھے کو روپیہ کی ضرورت نہیں۔خزانہ سے بھی روپیہ آگیا ہے اور ایک رانی نے بھی بھیج دیا ہے۔میرے پاس روپیہ کافی سے زیادہ ہے اور اسباب میں سب ساتھ ہی لے جاؤں گا۔غالبا اس وقت میرے پاس بارہ سو یا اس سے بھی کچھ زیادہ روپیہ آگیا تھا۔وہ ہندو پنساری کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ پر مشیروں کے یہاں بھی کچھ لحاظ داری ہی ہوتی ہے۔ہم لوگ صبح سے لیکر شام تک کیسے کیسے دکھ اٹھاتے ہیں۔تب کہیں بڑی دقت سے روپیہ کا منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔بھلا اور تو ہوا اس احمق کو دیکھو اپنے روپیہ کا مطالبہ تو نہ کیا اور دینے کو تیار ہو گیا۔میں نے کہا خد اتعالیٰ دلوں کو جانتا ہے۔ہم اس کا روپیہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد ادا کر دیں گے۔تم ان بھیدوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔بھیرہ میں پہنچ کر میرا ارادہ ہوا کہ میں ایک بہت بڑے پیمانہ پر شفاخانہ کھولوں اور ایک عالی شان مکان بنالوں۔وہاں میں نے ایک مکان بنایا۔ابھی وہ نا تمام ہی تھا۔اور غالبا سات ہزار روپیہ اس پر خرچ ہونے پایا تھا کہ میں کسی ضرورت کے سبب لاہور آیا۔اور میرا جی چاہا کہ حضرت صاحب کو بھی دیکھوں۔اس واسطے میں قادیان آیا۔چونکہ بھیرہ میں بڑے پیمانہ پر عمارت کا کام شروع تھا۔اس لئے میں نے واپسی کا یکہ کرایہ کیا تھا۔یہاں آکر حضرت صاحب سے ملا اور ارادہ کیا کہ آپ سے ابھی اجازت لیکر رخصت ہوں۔آپ نے اثنائے گفتگو میں مجھ سے فرمایا کہ اب تو آپ فارغ ہو گئے۔میں نے کہا ہاں ، اب تو میں فارغ ہی ہوں۔یکہ والے سے میں نے کہہ دیا کہ اب تم چلے جاؤ۔آج اجازت لینا مناسب نہیں ہے کل پرسوں اجازت لیں گے۔اگلے روز آپ نے فرمایا کہ آپ کو اکیلے رہنے میں تو تکلیف ہوگی۔آپ اپنی ایک بیوی کو بلوالیں۔میں نے حسب الارشاد بیوی کے بلانے کے لئے خط لکھ دیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ ابھی میں شاید جلد نہ آسکوں اس لئے عمارت کا کام بند کر دیں۔جب میری بیوی آگئی تو آپ نے فرمایا کہ آپ کو کتابوں کا بڑا شوق ہے لہذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اپنا کتب