مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 140

ان کا چہرہ زرد اور منہ فق تھا اور اس تمام مسجد میں سوائے میرے اور ان کے کوئی تیسرا آدمی نہ تھا۔تحصیل دار نے بڑی لجاجت اور خوف زدہ آواز سے کہا کہ مہاراج! میں آپ کا مخالف نہیں ہوں۔معلوم ہو تا تھا کہ ان کو اندیشہ ہے کہ یہ مذہب کے جوش میں مجھ کو قتل نہ کر ڈالے۔میں نے ان کو محبت سے اٹھایا اور گلے لگالیا لیکن ان کا اندیشہ رفع نہ ہوا۔تحصیل دار قد میں مجھ سے چھوٹے اور بڑے شریف الطبع انسان تھے۔میں نے ان کو اپنی بغل میں دیا کیا اور اسی طرح بغل میں لئے مسجد سے باہر نکلا۔لوگوں کو میں نے دیکھا کہ ہوا ہو گئے تھے۔کسی کا پتہ و نشان نہ تھا۔جوں جوں ہم دونوں شہر کے قریب آتے جاتے تھے۔تحصیل دار کا چہرہ بشاش ہوتا جاتا تھا۔جب ہم دروازہ میں آئے تو انہوں نے ذرا ہوش سنبھالا اور جب چوک میں پہنچے تو بالکل سنبھل گئے اور مجھ سے کہا کہ آپ ارشاد کریں تو میں تحصیل کو چلا جاؤں۔میں نے کہا ہاں جاؤ۔ان کی شرافت کا یہ حال ہے کہ آخری دم تک انہوں نے اور ان کے بیٹے ڈاکٹر فتح چند نے میری ہمیشہ بچی تعظیم کی اور کبھی بھی اس امر کا اظہار نہ کیا و کفی الله المؤمِنينَ الْقِتال عجائبات مباحثہ میں ایک مباحثہ میں نے اپنے ملک میں یہ دیکھا کہ میں ایک گاؤں میں مباحثہ کے لئے بلایا گیا۔مقام مباحثہ میں جب میں پہنچا تو ایک بڑا میدان دیکھا کہ اس میں بہت کی چارپائیاں بچھی ہوتی ہیں اور چار پائیوں پر ایک ایک کتاب علیحدہ علیحدہ کر کے برابر برابر پھیلی ہوئی ہیں۔میں نے بھی ان میں سے بعض کو دور سے رکھے ہوئے دیکھا۔کتا ہیں اس قدر فراہم کی گئی تھیں کہ انہوں نے وہ وسیع میدان پر کر دیا تھا۔میں نے مہتمم مباحثہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ معلوم ہوا کہ یہ تمام کتابیں رفع یدین والی حدیث کی تردید میں ہیں۔مجھ کو بہت تعجب ہوا کہ اس حدیث کی تردید تو چند محدثین اور چند فقہا کے اقوال سے بھی یہ لوگ کر سکتے تھے۔اس قدر وسیع کتب خانہ پھر کتابوں کو ایک ایک کر کے پھیلا کر رکھنے سے کیا فائدہ؟ میں اول اس کمرہ میں گیا جہاں مباحثہ تجویز ہوا تھا۔میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ یہ کتابوں کا کیا کارخانہ ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ایک سہل بات ڈالی اور