مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 332

مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 139

۱۳۹ بلکہ بیران (بیائے موحدہ) ہے اور بیر ہنومان کو کہتے ہیں۔پھر آپس میں کچھ اشارے کر کے سب کھڑے ہو گئے۔معلوم ہوا کہ کوئی خاص منصوبہ میرے متعلق انہوں نے تجویز کیا تھا اور اس لئے انہوں نے ایسی بھی کوشش کی تھی کہ وہاں میرے دوستوں میں سے ایک شخص بھی موجود نہ تھا۔میں اس وقت اپنے دل میں یہ دعا مانگ رہا تھا عذت بر بی و ربکم ان ترجمون۔اس مسجد جامع میں ایک منبر تھا۔ایک مولوی اس پر جا کھڑا ہوا۔ایک دنیا دار آدمی جس کو میرے خسر سے محبت تھی۔اس عظیم الشان از دحام اور کہرام میں میرے پاس سے یہ کہتا ہوا گزر گیا کہ۔"اگر یہ وقت مل جائے تو پھر ہم انتظام کر سکتے ہیں " جب مولوی کھڑا ہوا تو مجھ کو یقین ہو گیا کہ اب یہ کسی قسم کا فتویٰ دے گا اور اس فتویٰ کی حقیقت مجھ کو معلوم نہ تھی۔میرے داہنی طرف شہر کے تحصیلدار کھڑے تھے۔ان کا نام رام داس تھا اور ان کے داہنے ہاتھ پر تھانہ دار تھے جن کا نام لینا میں مناسب نہیں سمجھتا اور تھانہ دار کے داہنے اور پیچھے بہت سے سپاہی تھے۔باقی ہزارہا مخلوق ان کے پیچھے تھی۔اس تھانہ دار کا نقار تو صحیح تھا کیونکہ مولوی ہمارے مخالف تھے۔لیکن مجھ کو بڑا تعجب ہوا جبکہ تحصیل دار نے بھی مجھے دھمکی دی اور کہا کہ آپ کی نسبت جو یہ شخص فتوی دینے لگا ہے اس میں یہ شخص مختار ہے۔اس وقت محض خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے دل میں آیا کہ جیسا میرے خسر کے دوست نے کہا ہے وقت مل جائے تو اس ملنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔چنانچہ میں نے خدا تعالیٰ سے تائید پا کر اپنی پوری طاقت سے تحصیل دار کی رگ گردن کو جو شہ رگ کہلاتی ہے انگوٹھے اور انگلی کی مدد سے اس طرح دبایا کہ تحصیل دار صاحب کی چیخ نکل گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔تھانہ دار کو جب یہ معلوم ہوا کہ تحصیل دار مارا جا چکا تو اس کو خیال آیا کہ ہم تھانہ سے باقاعدہ روزنامچہ میں روانگی درج کر کے نہیں آئے۔ہم کو تھانہ سے با قاعدہ آنا چاہیے۔چنانچہ تحصیل دار کے بے ہوش ہو کر گرتے ہی تھانہ دار مع تمام سپاہیوں کے وہاں سے بھاگ گیا۔اس کے جاتے ہی یکلخت تمام مسجد خالی ہو گئی۔حتی کہ ان منبر پر چڑھنے والے مولوی صاحب کا بھی کوئی پتہ و نشان نہ تھا۔تحصیل دار رام داس کو جب ہوش آیا تو