مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 129
۱۲۹ ثابت ہوتا ہے کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھ سکتے ہیں۔اس پر وہ بڑے گھبرائے اور کہنے لگے کہ آپ تمام شہر کے خلاف کرتے ہیں۔میں نے کہا تمام شہر کے خلاف تو نہیں البتہ گدھے والوں کے خلاف کرتا ہوں جن کے کرایہ میں کمی ہوتی ہے۔اس پر وہ ہنس کر چپ ہو رہے۔ان کے گھر میں جو سب سے بے نظیر کام میں نے دیکھا وہ یہ ہے کہ مخدوم صاحب بہت ضعیف العمر آدمی تھے اور ان کی بیوی بے نظیر حسین اور بہت کم عمر تھی۔لیکن وہ اپنے ہاتھ سے کاغذ گھوٹ کر پیسے کما کر اپنے خاوند کے لئے نہایت نرم غذ ا بنایا کرتی تھی۔میں اس خدمت کو دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔ایک دن میں نے تنہائی میں اس سے کہا کہ تم کو اپنے حسن کی خبر بھی ہے ؟ اس نے کہا۔خوب خبر ہے اور میں اپنی اس خبر کی شہادت بھی دے سکتی ہوں او روہ شہادت یہ ہے کہ مکہ کی تمام عورتوں کو دیکھ لو یہ اپنے رخساروں پر ایک داغ بناتی ہیں اور مجھے کو دیکھو میرے چہرہ پر کوئی داغ نہیں اور سارے شہر میں ایسی میں ہی ایک عورت ہوں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں اپنے حسن کو پہچانتی ہوں۔جب عورتوں نے مجھے کو بہت مجبور کیا تو میں نے اپنے بالوں کے نیچے گردن پر داغ بنائے۔چنانچہ اس نے اپنے بال اٹھا کر مجھے دکھائے۔میں نے کہا اب دوسرا سوال یہ ہے کہ مخدوم صاحب کی تم اس قدر خدمت کرتی ہو کہ میں دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں۔یہ نہایت ضعیف العمر آدمی ہیں اور تم نو عمر ہو۔کہنے لگی اگر یہ ضعیف العمر نہ ہوتے تو میں کیوں کا غذ گھوٹتی۔چونکہ خدا تعالیٰ نے میرے لئے یہ خاوند عطا کیا ہے تو میرا فرض ہے کہ ان کے ساتھ بہت غم گس، رانہ برتاؤ کروں۔مجھے کو معلوم ہوا اور بہت ہی پسندیدہ معلوم ہوا کہ نیکی اور نیک طینتی اس عورت میں بدرجہ اتم موجود ہے۔میں نے جب مخدوم صاحب سے پوچھا کہ آپ اس پر مطمئن ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں اس کی راست بازی پر قسم اٹھا سکتا ہوں۔یہ بہت ہی غمگسار ہے اور جس طرح اس کا نام صادقہ ہے اسی طرح یہ واقعی صادقہ ہے۔مکه معظمہ میں ایک عمدہ طبیب کی بڑی ضرورت ہے۔ایک اچھا خداترس تجربہ کار طبیب بڑی وسعت سے گزارہ کر سکتا ہے۔میں نے اپنے استاد کی والدہ صاحبہ کی بیماری کا ذکر