مِرقاتُ الیقین فی حَیاتِ نورالدّین — Page 125
۱۲۵ قرض وغیرہ نہیں یہ تو قاضی صاحب تم سے لیتے ہیں پھر وہ تم کو واپس نہ دیں گے۔آخر انہوں نے انکار کیا۔دوسرے ہی دن دار القضا سے حکم نامہ آیا کہ جہاں تم سرائے بناتے ہو۔یہاں ایک کو چہ نافذہ تھا اور نافذہ کوچہ کا بند کرنا حدیث سے منع ہے۔اس لئے سرائے کا بنانا بند کیا جائے۔چونکہ ان کے ہزاروں روپے خرچ ہو چکے تھے بہت گھبرائے۔آخر ایک بزرگ نے (جن کو میں جانتا ہوں) صلاح دی کہ تم جدہ چلے جاؤ اور انگریزی قونصل سے جا کر ملو) چنانچہ ہمارے دوست وہاں گئے اور تمام حالات انگریزی قونصل سے بیان کئے۔اس نے قاضی صاحب کے نام ایک چٹھی لکھ دی۔وہ چٹھی قاضی صاحب کے پاس پہنچی تو اگلے ہی روز دار القضا سے حکم پہنچا کہ چونکہ پتہ چلا ہے کہ کوچہ نافذہ کی آمد و رفت رک گئی ہے اور جبکہ آمد و رفت رکی ہوئی ہے تو اب وہ کوچہ نافذہ کے حکم میں نہیں رہا۔لہذا سرائے بنانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ایک اور ہمارے دوست تھے۔انہوں نے وہاں ایک عظیم الشان باغ بنانا چاہا۔وہاں کے لوگوں اور زمین داروں نے اس کام میں خوب مدد دی۔لیکن جب پھل آنے لگا تو رات کو جا کر سب کاٹ لیتے تھے۔یہ اخلاق قابل افسوس ہیں اور بیان اس لئے کئے ہیں کہ کوئی عبرت حاصل کرے اور شاید کوئی خدا تعالیٰ کا نیک بندہ دعا کرے۔ایک دفعہ ایک شخص شاہ صاحب کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میں مدینہ منورہ ہجرت کر کے آیا ہوں۔لیکن یہاں کے لوگوں کے حالات سے میں تنگ آگیا ہوں۔شاہ صاحب سن کر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ ہم بھی تو ہجرت کر کے آئے ہیں۔تم نے اگر جوار نبی کریم کے لئے ہجرت کی ہے تو وہ موجود ہے اور اگر اس لئے کی ہے کہ ابو بکر و عمر و عثمان و علی یہاں موجود ہیں تو یہ لوگ تو بے شک آج موجود نہیں ہیں۔آپ یہاں سے چلے جائیں۔جن دنوں میں شاہ عبد الغنی صاحب سے تعلیم پا تا تھا۔ایک دن ظہر کی نماز جماعت سے مجھ کو نہ ملی۔جماعت ہو چکی تھی اور میں کسی سبب سے رہ گیا۔مجھے ایسا معلوم ہوا کہ یہ اتنا بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ قابل بخشش ہی نہیں۔خوف کے مارے میرا رنگ زرد ہو گیا۔مسجد کے اندر