حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 43
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود مالی معاونت کا روح پرور واقعہ مالی معاونت کے بارے میں حضرت مسیح موعود کی مندرجہ ذیل تحریر میاں محمد موسیٰ جہ ذیل تحریر میں حمد کے مد نظر ہو گی جب انہوں نے درج ذیل مالی قربانی کی تھی۔اگر تم کوئی نیکی کا کام بجا لاؤ گے اور اس وقت کوئی خدمت کروگے۔تو اپنی ایمانداری پر مہر لگا دو گے۔اور تمہاری عمریں زیادہ ہوں گی۔اور تمہارے مالوں میں برکت دی جائے گی۔36 ( تبلیغ رسالت جلد 10 ، صفحہ 56) میاں محمد بیٹی صاحب نے 2002 میں اپنی وفات سے کچھ دیر پہلے میاں محمد موسیٰ صاحب کی ایک عظیم مالی قربانی کے بارے میں بتایا جو ابھی تک جماعت احمدیہ کے کسی ریکارڈ کا حصہ نہیں بن سکی : 1902-3 میں میاں محمد موسیٰ حضرت مسیح موعود کی ایک محفل میں موجود تھے جب حضور نے ایک نماز کے بعد ضروری کتاب یا اشتہار شائع کرنے کے لئے جماعت کو ایک بڑی رقم کی تحریک کی۔میاں محمد موسیٰ کا یہ دستور تھا کہ وہ حضور سے اجازت لیے بغیر گھر واپس نہ جاتے تھے۔لیکن اس دن وہ خاموشی سے لاہور چلے گئے۔اپنے گھر نہیں گئے۔گنج مغل پورہ لاہور میں ان کی ملکیت میں آٹھ مکانوں کا ایک احاطہ تھا جو ”سرائے موسیٰ“ کے نام سے مشہور تھا۔اب بھی اس کا یہی نام ہے۔میاں محمد موسیٰ نے اس سرائے کا ایک ہندو سوداگر سے سودا کر دیا۔اسے نہایت ہی کم دام پر بیچ دیا اور رقم لے کر واپس قادیان پہنچ گئے۔آپ کی غیر موجودگی میں حضور نے احباب جماعت سے اُن کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں نظر نہیں آرہے۔یہ بھی کہا کہ موسیٰ صاحب تو اجازت لئے بغیر واپس نہیں جاتے۔احباب نے لاعلمی کا اظہار کیا۔اگلے دن فجر کی نماز کے وقت آپ قادیان واپس پہنچ گئے اور نماز کے بعد ساری ر قم حضور کی خدمت میں پیش کر دی اور کہا: ”حضور میں تو رقم کے حصول کے لئے لاہور گیا تھا اس لئے آپ سے اجازت نہ طلب کی۔اس رقم سے حضور اپنی کتاب ے نہ شائع کر لیں۔“ 36 مالی قربانی ایک تعارف۔صفحہ 17، ناشر تحریک جدید انجمن احمدیہ پاکستان 43