حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 99
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود اسے پورا کر دکھایا۔یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے خلفائے اسلام کو بے پناہ طاقتوں سے نوازا ہے۔1988ء میں تجرباتی نیو کلر فزکس میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری مل گئی الحمد للہ۔مقالے کا عنوان Study of fast neutron induced reaction 'cross sections تھا۔مصنف 37 سال پاکستان اٹامک انرجی کمشن میں ملازمت کرنے کے بعد دسمبر 2004ء میں چیف سائنٹفک آفیسر کے عہدہ سے ریٹائر ہوا۔اس کے بعد سات سال بطور پروفیسر نیشنل یونیورسٹی آف کمپیوٹر اینڈ ایمر جنگ سائنسز لاہور میں فزکس پڑھائی۔اس کی تحقیق پر مبنی سو سے زائد تحقیقاتی مقالے اور رپورٹس فزکس کے مستند جرائد میں چھپ چکی ہیں۔میاں محمد موسیٰ کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی بے شمار برکات و انعامات ان کے بچوں، پوتے پوتیوں اور ان کی آگے اولادوں میں جاری و ساری ہیں اور ان میں سے بیشتر کسی نہ کسی طور پر جماعت کی خدمت کر رہے ہیں۔مصنف کو بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کے مختلف شعبہ جات میں خدمت دین کی توفیق ملی۔اس وقت بھی وہ جماعت امریکہ کے مختلف کاموں میں مصروف ہے۔جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے کہ میاں موسیٰ کی اولاوں میں بھی احمدیت کی خدمت رچ بس گئی ہے۔بہت سے بچے جماعتی خدمت میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مصنف کتاب ہذا پر بہت بڑا احسان کیا جب اسے دہشت گردوں کے حملے سے 28 مئی 2010ء کو دارالذکر لاہور میں موت کے منہ سے بچایا جب وہ نماز جمعہ کے لئے مسجد میں حاضر ہو ا تھا۔اس حملے میں 87 احمد یوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔خدا تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔جو بچ گئے خدا تعالیٰ انہیں ہمیشہ جماعت احمدیہ کی بہتر رنگ میں خدمت کی توفیق دے۔آمین۔99 99