حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 98
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود مصنف کے بارے میں ڈاکٹر محمود احمد ناگی ابن مکرم میاں محمد یکی 12 دسمبر 1944 ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔اُن کے دادا حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ صاحب آف نیلا گنبد لاہور کا شمار حضرت مسیح موعود کے جید صحابہ میں ہوتا ہے۔انہوں نے خاندان میں سب سے پہلے 1902ء میں احمدیت قبول کی اور اپنی بقیہ زندگی کا زیادہ وقت سلسلہ عالیہ احمدیہ کے کاموں میں صرف کیا۔مصنف کتاب ہذا نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے 1968ء میں فزکس میں ایم ایس سی کی۔یونیورسٹی کی طرف سے اکیڈیمک رول آف آنر اور میرٹ (Academic Roll of Honor and Merit) دیا گیا۔1974ء میں انگلینڈ سے پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ایک وظیفہ ملا۔دفتر میں جماعت اسلامی کے چند افسروں کی مخالفت کی وجہ سے وہ اس سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے حکم پر اُن کا سفری سامان اس وقت جہاز سے اُتار لیا گیا جب وہ برمنگھم انگلینڈ کے لئے روانہ ہورہے تھے۔پاسپورٹ اور سفری ٹکٹ سرکاری کارندوں نے چھین لئے اور کہا کہ احمدیت کا انکار کر و تو باہر جانے کی اجازت ہو گی ورنہ نہیں۔احمدیت پر تو جان بھی قربان ہے۔ایسا کہنا تو تصور میں بھی نہیں لایا جا سکتا۔ایمان کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔کچھ لمحوں کیلئے مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ایک جھٹکا تو لگا مگر دل برداشتہ نہ تھا۔اس واقعہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خدمت اقدس میں بغرض دعا 1974 میں حاضر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ فکر کی قطعاً ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ پی ایچ ڈی کا سامان مہیا کر دے گا۔آپ نے جو کہا خدا نے