حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ

by Other Authors

Page 68 of 100

حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 68

سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود آپ خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اپنی رائے ثبت کریں کہ آیا اب خلافت ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے۔اگر ہونی چاہیے تو کیا ویسی جیسی حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی تھی یا کسی اور طرح کی۔“ ” میں نے عبارت کو پڑھا۔ہونی چاہیے اور ویسی ہی ہونی چاہیے جیسی حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی تھی اور دستخط کر دیئے۔ہمارا یکہ چل پڑا میں نے مصطفیٰ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے مجھ سے مشورہ لئے بغیر کیوں دستخط کر دیئے۔جب کہ امیر قافلہ میں تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک واضح بات تھی کہ اس میں مشورہ کی ضرورت میں نے نہ جانی اور خلافت ہونی چاہیے پر رائے ثبت کر دی۔سفر بمبئی اور میاں موسیٰ کی مہمان داری 90% شدید علالت کے باعث حضرت خلیفتہ المسیح الثانی تبدیلی آب و ہوا کیلئے مع حضرت ام المومنین بمبئی جانے کیلئے 3 مئی 1918ء کو بعد نماز عصر روانہ ہوئے۔آپ کے ہمراہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب، ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور مولوی عطا محمد صاحب تھے۔4 مئی کو لاہور ریلوے اسٹیشن پر جماعت استقبال کیلئے موجود لاہور کے ہر فرد نے اپنی ہمت سے عملاً اخلاص کا اظہار کیا۔حضرت میاں محمد موسیٰ صاحب نے اخلاص و محبت سے حضور اور آپ کے خدام کی مہمان داری کا ذمہ اپنے اوپر لے رکھا ہے اور آپ کا خاندان خدمت میں ہر وقت مستعد رہا۔ان کا تہیہ ہے کہ حتی الواسع کوئی تکلیف نہ ہونے دیں گے۔پہلے چار وقتوں تک بہت مسرت کے ساتھ انہوں نے ہی تمام اخراجات خوردونوش کو برداشت کیا۔90 تاریخ احمدیت مؤلّفہ حضرت مولانا دوست محمد صاحب شاہد، جلد 3 صفحہ 520 مطبوعہ (2007)، نظارت نشر و اشاعت قادیان طبع پرنٹ ویل پر لیں امر تسر 68