حضرت حاجی میاں محمد موسیٰ ؓ — Page 22
سوانح میاں محمد موسیٰ صحابی حضرت مسیح موعود حلیہ اور عادات حاجی محمد موسیٰ صاحب کا قد درمیانہ یعنی تقریباً ساڑھے پانچ فٹ تھا۔اُن کا جسم سڈول اور مضبوط تھا۔عام طور پر سفید شلوار قمیض زیب تن کرتے۔گرمیوں میں پتلا واسکوٹ یا سلو کہ اور سردیوں میں گرم کوٹ پہنتے۔شروع ہی سے بھر پور اور کھنی داڑھی رکھتے تھے۔باہر نکلتے تو سفید پگڑی سر پر ضرور رکھتے اور تیار ہو کر اچھے اور صاف ستھرے کپڑوں میں باہر نکلتے۔صفائی کا ہر وقت خاص خیال رکھتے۔کھانے کے بعد دانتوں کی صفائی کے لئے اپنے کوٹ کی جیب میں ایک نرم برش رکھتے تھے۔کوٹ کی اوپر والی جیب میں ایک پرانی طرز کی زنجیری کے ساتھ جیسی گھڑی رکھی ہوتی تھی۔بچوں کو ”بچو ہیر یا “ کہہ کر بلاتے۔مشکل اوقات میں بچوں سے دعائیں کرواتے اور کہتے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کی دعائیں جلدی سنتا اور قبول کرتا ہے۔ر میں کوئی بھی پانی مانگتا تو جھٹ سے خود اُٹھ کر پانی دیتے اور کہتے کہ پانی پلانے میں خدا تعالیٰ سے بڑا ثواب ملتا ہے۔نماز باجماعت کا اہتمام کرتے۔گھر کے تمام افراد یعنی مرد، عورتوں اور بچوں کو پابندی کے ساتھ نماز باجماعت میں شامل کرتے۔عام طور خود امامت کے فرائض سر انجام دیتے۔آپ کا چہرہ بارعب اور باوقار تھا جو عام طور پر شگفتہ اور تروتازہ رہتا۔زیر لب مسکراتے رہتے۔ان کی باتوں سے ہر وقت پیار ہی پیار ٹپکتا یعنی صرف میٹھے بول بولتے۔بہت کم ناراض ہوتے۔بہت سوچ سمجھ کر اور فہم و فراست سے مشورہ دیتے۔خاندان کے تمام افراد ان کی رائے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔آپ پنجابی اور اردو میں شاعری بھی کرتے تھے۔ذریعہ معاش کے لئے گھر سے صبح سویرے نکلتے۔شہر میں جہاں بھی کسی کام کے سلسلہ میں جانا ہوتا تو اس کے لئے سائیکل استعمال میں لاتے۔مغرب سے پہلے گھر واپس لوٹ آتے۔بڑوں چھوٹوں سب کے لئے گھر میں مغرب تک واپس آنے کا دستور رائج تھا۔خاکسار نے بھی بچپن میں یہی مشاہدہ کیا کہ ہماری دادی جان سختی سے سب اہل خانہ کو 22