لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 66
بڑھائی اور ان کے حوصلے بلند کئے۔آپ نے دنیا والوں کو پر شوکت انداز میں بتا دیا کہ کسی ماں نے وہ بچہ نہیں جناجو ہم سے ہماری مسکراہٹوں کو چھین سکے۔ایک دفعہ آپ نے فرمایا: دنیا تیوریاں چڑھا کے اور سرخ آنکھیں کر کے تمہاری طرف دیکھ رہی ہے تم مسکراتے چہروں کے ساتھ دنیا کو دیکھو۔خطاب جلسہ سالانہ ریہ 1979ء) آپ محبت کے سفیر اور امن کے داعی تھے۔صرف پیار کی ندا دینے والا یہ پیارا جملہ آپ ہی کا ہے جو آج جماعت میں بھی اور جماعت سے باہر بھی زبان زد خلائق ہو چکا ہے “Love For All - Hatred For None" اسی حوالے سے آپ نے ایک دفعہ فرمایا: ”میں نے اپنی عمر میں سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم کا نہایت تدبر سے مطالعہ کیا ہے اس میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جو کہ دنیاوی معاملات میں ایک مسلم اور غیر مسلم میں تفریق کی تعلیم دیتی ہو۔شریعت اسلام بنی نوع انسان کے لئے خالصتاً باعث رحمت ہے۔حضرت محمد صلی علیم نے اور آپ کے صحابہ کرام نے لوگوں کے دلوں کو محبت، پیار اور ہمدردی سے جیتا تھا۔اگر ہم بھی لوگوں کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہو گا۔قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے 66