لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 62 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 62

استقامت، صبر ، دعاؤں اور نمازوں کے ساتھ اپنے رب سے مدد مانگو۔پس صبر کرو اور دعائیں کرو، صبر کرو اور دعائیں کرو۔اور دوسری طرف آپ نے معاندین کی ایذا رسانیوں پر رد عمل کے بارہ میں اپنے تصور کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا کہ : ”ہم تو یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ جو اپنی طرف سے ہمارا مخالف ہے۔۔۔اس کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چھے۔“ آپ نے مزید فرمایا کہ: میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ تمہارا رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ نہ تم ظالم بنو خدا کی نگاہ میں اور نہ تم مفسد بنو خدا کی نگاہ میں۔اس لئے جماعت احمدیہ کا کوئی رد عمل ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جس میں سے ظلم کی بُو آتی ہو یا اس کے اندر فساد کی سڑاند پائی جاتی ہو۔ہمارا رد عمل بالکل ایسا نہیں ہو گا۔۔۔باقی جہاں تک کسی کے مسلم یا غیر مسلم ہونے کا سوال ہے یہ تو میں شروع سے کہہ رہا ہوں اس قرار داد سے بھی بہت پہلے سے کہتا چلا آیا ہوں کہ جس شخص نے اپنا اسلام لاہور کے مال ( روڈ) کی دکان سے خرید ا ہو ، وہ تو ضائع ہو جائے گا لیکن میں اور تم جنہیں خدا خود اپنے منہ سے کہتا ہے کہ تم (مومن) مسلمان ہو تو پھر ہمیں کیا فکر ہے دنیا جو مرضی کہتی رہے تمہیں فکر ہی کوئی نہیں۔“ ( خطبات ناصر خطبہ جمعہ 13 ستمبر 1974 جلد پنجم صفحہ 639،640،641 مطبوعہ ربوہ) 62