لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 241

تھی۔لوگ تھوڑے تھے۔قربت، پاکیزہ صحبت سے استفادہ اور دعاؤں کے حصول کے مواقع زیادہ تھے۔اس لئے ان لوگوں نے خوب ایمانی حظ اٹھایا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھوں سے ان کی مہمان نوازی فرماتے۔ان سے شفقت اور ہمدردی کا سلوک فرماتے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ ایک صحابیہ حضرت حفصہ (حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی اہلیہ ) کے گھر جا کر ان کی والدہ کی تعزیت کی۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت میں جگہ دے دی ہے تم فکر اور غم نہ کرو۔میں بھی تمہارا باپ ہوں جس چیز کی ضرورت ہوا کرے مجھ سے کہا کرو۔اس نے رو کر عرض کیا کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اکثر بیمار رہتے ہیں وہ ان کے لئے دعائیں کیا کرتی تھیں۔آپ کو توجہ دلاتی تھیں۔اب میں کس سے کہوں گی۔فرمایا مجھ سے کہا کرو۔سر سے پگڑی اتار کر دے دی اور فرمایا اس کا ایک ایک کر تہ بنا کر سب بچوں کو پہنا دو۔اور خود اس رو می ٹوپی کو سر پر رکھ کر تشریف لے گئے جو پگڑی کے اندر آپ رکھا کرتے تھے۔(سیرت حضرت مسیح موعود۔صفحہ 202) مائی تابی کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا۔وہ غم سے پاگل ہو گئی اور سارا دن بیٹے کی قبر پر پڑی رہتی تھی۔لوگوں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بھیج دو۔لوگ اس 241