لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 48
ہلکی پھلکی تفریح کے لئے ہو۔انہی ٹی وی چینلز سے متاثر ہو کر بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے فیشن اپنانا شروع کر دیتے ہیں جو انسان کو بے حیائی پر مجبور کرتے ہیں۔وہ فیشن اپنائیں جو حیا کی حدود کے اندر ہو۔خاص طور پر لڑکیاں ایسے فیشن کریں جو حیا کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہوں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہو۔ان میں اور دوسروں میں فرق نظر آتا ہو۔وہ طرز زندگی اختیا کریں جس کا خدا اور اس کے رسول نے ہمیں حکم دیا ہے۔آج کل انٹر نیٹ کا استعمال بھی روشن خیالی شمار کیا جاتا ہے۔لیکن اس کا بھی بے وجہ استعمال غلط ہے۔غلط جگہوں پر رابطے اور لڑکوں کے ساتھ emails کے تبادلے سے بھی احمدی بچیوں کو اجتناب کرنا چاہئے۔یہ تعلیم جو اس طرح کی آزادی کے خیالات ایک احمدی بچی کے دل میں پیدا کرے نعمت نہیں ہے بلکہ لعنت ہے۔کیونکہ آزادی کے نام پر جو لڑکیاں اس طرح تعلقات پیدا کر لیتی ہیں اور دوستیاں قائم ہو جاتی ہیں ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر بھی برباد کئے اور دوسری عورتوں کے گھر بھی برباد کئے اور اپنے خاندان کے لئے بدنامی کا باعث بھی بنیں۔پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک احمدی لڑکی، ایک احمدی عورت نے اپنی حیا کی حفاظت کرنی ہے۔اپنی عصمت کی حفاظت کرنی ہے۔اپنے تقدس کو قائم رکھنا ہے۔48