لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 31

کی اولاد نیک ہو اور آپ کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا موجب ہو اور وہ ذریت طیبہ کہلائے تو انہیں جنت بن کر دکھائیں۔اگر خدانخواستہ آپ میں بد عملی ہو ، کبھی ہو اور آپ کا نمونہ نیک نہ ہو تو آپ اس حدیث کی حقدار کیسے بن سکتی ہیں کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔اللہ آپ کو اس کا حقدار بنائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بنادے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو یا وہ بڑا نامور اور مشہور آدمی ہو اس قسم کی خواہش صرف میرے نزدیک شرک ہے۔۔۔میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے ہیں۔“ 31