لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 30
ہیں اور نہ ناجائز لاڈ پیار اور بچوں کی بری عادات سے صرف نظر کرنے کی وجہ سے سوائے پچھتاوے کے اور کچھ نہیں ملتا۔بچوں کو نیکی کی عادت ڈالیں۔بچپن سے ہی ان پر نماز کی اہمیت واضح کریں۔قرآن کریم اور احادیث میں نماز کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ کفر اور شرک کے درمیان امتیاز کرنے والی چیز نماز ہے۔حضرت رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں : جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کی تاکید کرو اور جب دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر سختی کرو۔پس اپنے بچوں سے نماز کی پابندی کرائیں اور ان کی نگرانی کریں کہ بچے بر وقت نماز ادا کر رہے ہیں کہ نہیں، بچیاں مقررہ وقت پر گھروں میں نماز ادا کریں اور بچے مساجد یا نماز سنٹر میں جاکر نماز پڑھیں۔بچوں کے اخلاق کی درستی اور اصلاح میں نماز کی ادائیگی بہت ممد ثابت ہوتی ہے۔انہیں با قاعدگی سے تلاوت کا عادی بھی بنائیں۔بڑوں کا احترام، نظام جماعت کی پابندی اور خلافت سے وابستگی کا درس دیتی رہیں۔ان کو انبیاء اور صلحاء کے پاکیزہ اور ایمان افروز واقعات سنائیں تا کہ بچپن سے دین کی محبت اور اس کے لئے عزت ان کے دلوں میں پید ا ہو اور وہ کسی مجبوری سے نہیں بلکہ ذاتی دلچپسی اور شوق سے جماعتی پروگراموں میں حصہ لیں۔انہیں جھوٹ سے نفرت کرنا سکھائیں۔آوارگی سے بچائیں۔ان کے دوستوں پر نظر رکھیں۔ان کے لئے دعائیں کرتی رہیں اور اپنے نیک اعمال اور پاک نمونے ان کے سامنے پیش کریں۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ 30