لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 336

لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 291

حضرت عمرؓ نے نظر کی تو دیکھا کہ ایک گوشہ میں تلوار لٹکی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے عمر تو کیوں رویا؟ عرض کی کہ خیال آتا ہے کہ قیصر و کسریٰ جو کہ کافر ہیں ان کے لئے کس قدر نعم اور آپ کے لئے کچھ بھی نہیں۔فرمایا میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس میں حرکت کر سکوں۔میری مثال یہ کہ جیسے ایک مسافر سخت گرمی کے دنوں میں اونٹ پر جارہا ہو اور جب سورج کی تپش سے بہت تنگ آوے تو ایک درخت کو دیکھ کر اس کے نیچے ذرا آرام کر لیوے اور جو نہی کہ ذرا پسینہ خشک ہو پھر اٹھ کر چل پڑے۔تو یہ اسوہ حسنہ ہے جو کہ اسلام کو دیا گیا ہے۔“ (ملفوظات جلد دوم صفحہ 660) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ ہر پہلو سے نہایت جامع اور اکمل ہے۔آپ کے اسوہ حسنہ کو خود بھی اپنانا چاہئے اور غیروں کو بھی اس سے آگاہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے۔آمین والسلام خاکسار خليفة المسيح الخامس 291