لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 242
کو یہاں لے آئے۔وہ نیچے رہا کرتی تھی۔نیچے دالان میں گھڑے پڑے رہتے تھے وہ ان میں اپنا کر تہ ڈبو دیتی تھیں۔حضور نے فرمایا کہ ” یہ گھڑے اس کے واسطے رہنے دو اور گھر کی ضرورت کے واسطے اور رکھ لو۔“ وہ جب رونا شروع کرتی تو حضور خود اس سے پوچھتے کہ ”کیوں روتی ہے ؟“ وہ کہتی کہ مجھے میرا بیٹا یاد آتا ہے۔تو حضور فرماتے کہ ”میں بھی تیرا بیٹا ہوں۔“ آخر وہ اچھی ہو گئی۔(سیرت المہدی۔روایت نمبر 1373) اسی طرح ایک خاتون اپنی بیٹی کے ساتھ آئیں۔اس وقت حضور علیہ السلام کھانا کھارہے تھے۔لڑکی نے رونا شروع کر دیا وہ روٹی مانگتی تھی۔آپ نے اسے منگوا کر دی۔وہ پھر بھی چپ نہ ہوئی۔یہ وہ روٹی مانگتی تھی جو حضور کھا رہے تھے۔تب حضور نے اپنی روٹی اسے دے دی اور وہ چپ کر کے کھانے لگ گئی۔(سیرت المہدی۔روایت نمبر 1281) یہ بے لوث محبت کے چند نمونے ہیں جس نے صحابہ اور صحابیات کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گرویدہ بنا دیا۔وہ دعاؤں اور برکات کے حصول کے لئے آپ کے گرد جمع رہتے۔صحابہ بار بار قادیان آتے۔مختلف خدمات بجالاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی جذبہ اخوت اور ان کی دینی تربیت کی خاطر انہیں جلد واپسی کی اجازت نہ دیتے یا قادیان بلا لیتے۔صحابہ اپنے زیادہ تر اموال حضرت اقدس کی خدمت 242