لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 243
میں پیش کر دیتے۔بہتوں کو وطنوں اور قریبی رشتہ داروں کو بھی الوداع کہنا پڑا۔ان تمام کاموں میں ایمان کی دولت سے مالا مال ان کی بیویوں نے مکمل ساتھ دیا۔صحابیات نے محض اللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی۔خدا تعالیٰ بھی چاہتا تھا کہ وہ ایمان وایقان میں ترقی کریں۔اس لئے انہیں ایسے تجربات کروائے جن سے ان کی محبت و عقیدت ہمیشہ بڑھتی رہی۔چنانچہ انہوں نے حضور علیہ السلام سے دعائیں کروائیں اور قبولیت کے نظارے دیکھے۔کسی بے اولاد کو اولاد عطا ہوئی۔کسی کو لا علاج مرض سے معجزانہ شفا ملی۔کسی کو دکھوں اور تکالیف سے رہائی نصیب ہوئی۔کسی کے خاوند یا قریبی عزیز کی محکمانہ ترقی ہوئی۔ان تمام باتوں سے وہ ایمان و اخلاص میں ترقی کرتی چلی گئیں۔جن صحابیات کو خلفائے احمدیت کے ادوار دیکھنے نصیب ہوئے انہوں نے خلافت سے گہری وابستگی کا ثبوت دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح آپ کے خلفاء سے دعائیں کراوئیں۔ان سے تبرکات حاصل کئے۔بچوں کو ملاقاتیں کروائیں۔ان کی قربت میں آکر آباد ہوئیں۔اخلاص و وفا، ایمان و ایقان اور محبت و عقیدت کا شاندار نمونہ پیش کیا۔وہ قادیان اور ربوہ کے جلسوں پر بڑے اہتمام سے آتیں۔بچوں کو 243