لجنہ اماءاللہ عالمگیر کے لئے پیغامِ عمل — Page 51
ہیں۔وہ تقویٰ کی بنیادی تعلیم پر خود بھی عمل کرتے ہیں اور اسی کا اپنے پیروکاروں میں پر چار بھی کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی پاکیزہ زندگی اختیار کرنے کے لئے اپنی جماعت کو اسی حقیقت سے آگاہ کرتے ہوئے تقویٰ کو ہر ایک نیکی کی جڑ قرار دیا ہے اور ہمیشہ اس جڑ کی حفاظت کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔آپ اپنی مبارک تصنیف رسالہ الوصیت میں فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے۔وہی پانی جس سے تقویٰ پرورش پاتی ہے تمام باغ کو سیراب کر دیتا ہے۔تقویٰ ایک ایسی جڑ ہے کہ اگر وہ نہیں تو سب کچھ بیچ ہے اور اگر وہ باقی رہے تو سب کچھ باقی ہے۔انسان کو اس فضولی سے کیا فائدہ جو زبان سے خدا طلبی کا دعویٰ کرتا ہے لیکن قدم صدق نہیں رکھتا۔دیکھو میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ آدمی ہلاک شدہ ہے جو دین کے ساتھ کچھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے۔اور اس نفس سے جہنم بہت قریب ہے جس کے تمام ارادے خدا کے لئے نہیں ہیں بلکہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے۔پس اگر تم دنیا کی ایک ذرہ بھی ملونی اپنے اغراض میں رکھتے ہو تو تمہاری تمام عباد تیں عبث ہیں۔اس صورت میں تم خدا کی پیروی نہیں کرتے بلکہ شیطان کی پیروی کرتے ہو۔تم ہر گز توقع نہ کرو کہ ایسی حالت میں خدا تمہاری مدد کرے گا بلکہ تم اس حالت میں زمین کے کیڑے 51