میری والدہ — Page 90
۹۰ " 1 بجے کے قریب عزیز اسد اللہ خاں کو اور مجھے پاس بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا۔جاؤ بیٹا اب سو جاؤ۔یہ آخری کلمہ تھا جو اپنی مرضی سے خود بخود اس پیارے منہ سے نکلا۔ڈاکٹر عاجز آ چکے تھے۔علاج بند ہو چکا تھا۔روح اپنے خالق کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کر رہتی تھی۔لیکن ماں کی مامتا کو اس وقت بھی یہ فکر تھی کہ میرے بیٹوں کے آرام میں خلل نہ آئے۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں اکیلا ہی ان کے پاس تھا۔تو میں نے بلایا۔جواب دیا ”جیو پتر۔میں نے کہا آپ نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی۔فرمایا میں نے دوسروں کے ساتھ بھی کوئی خاص بات نہیں کی۔میں نے کہا دوسرے تو صرف بیٹے ہی ہیں اور میرے اور آپ کے درمیان تو عشق کا رشتہ تھا۔فرمایا۔ہاں۔اس رات ایک عجب کیفیت ہمارے سامنے تھی۔طبی لحاظ سے روح اور جسم کا سامنے جو ختم ہو چکا ہونا چاہئے تھا۔لیکن روح اپنے خالق کے سامنے سجدہ میں پڑی ہوئی عرض کر رہی تھی کہ آپ کی رحمت سے بعید نہیں کہ آپ اس جوڑ کے قائم رہنے کا حکم فرمائیں۔جب تک آپ کا یہ عاجز اور نا تو ان بندہ اس سرزمین میں پہنچ جائے۔جو آپ کے ایک محبوب کی جائے قیام ہونے کی وجہ سے آپ کے انوار اور رحمت کی مهبط ہے۔گاڑی تیز چل رہی تھی اور ہر لحظہ ہمیں قادیان سے قریب کر رہی تھی اور ہم یہ نظارہ دیکھ رہے تھے۔مرا عهدیست با جانان که تاجان در بدن دارم هواداری کوئیـش را بجان خویشتن دارم قادیان میں آمد ۱۵ مئی اتوار کے دن پونے دس بجے قبل دو پہر ہم قادیان پہنچے میں نے والدہ