میری والدہ — Page 81
Al ہوں۔چنانچہ میں نے ٹیلیفون پر پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔لیکن یا ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پیغام نہ پہنچ سکا یا وہ کسی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔سہ پہر کو میں مکان پر واپس آیا تو معلوم ہو اڈاکٹر صاحب نہیں آئے۔میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کیا۔اب شملہ پہنچ کر ڈاکٹر بلا لیں گے۔انہوں نے مسکرا کر فرمایا۔اچھا۔شام کی گاڑی سے ہم قادیان سے روانہ ہو گئے۔بٹالہ میں چوہدری نصیر احمد صاحب اور اُن کی بیگم صاحبہ ہمارے ساتھ شامل ہو گئے۔ان کی بیگم صاحبہ کو ایک دن پیشتر ہی سخت درد کا دورہ ہوا تھا اور وہ بہت کمزور ہورہی تھیں۔والدہ صاحبہ نے اصرار کیا کہ وہ پلنگ پر سوئیں اور خود انہوں نے صوفہ پر رات گزاری۔صبح انہوں نے اپنا ایک رؤیا سنایا کہ تمہارے والد صاحب آئے ہیں اور کہتے ہیں۔آپ تو بہت بیمار ہیں۔اچھا میں جا کر ڈاکٹر کو لاتا ہوں۔ایسا ڈاکٹر جس کی فیس ہر بارٹی بتیس روپیہ ہوئی۔بیماری کا تشویشناک صورت اختیار کرنا شملہ پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کو بلایا۔انہوں نے کہا تکلیف تو خون کے دباؤ کی ہے لیکن صحیح علاج اس وقت تک تجویز نہیں ہوسکتا۔جب تک بیماری کے پہلے مراحل کی تفصیل معلوم نہ ہو۔خون وغیرہ کا معائنہ کرنے سے معلوم ہو ا کہ گردے بھی ٹھیک کام نہیں کر رہے۔بہر حال جو علاج تجویز ہڈ او شروع کر دیا گیا۔لیکن کمزوری آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔شملہ پہنچ کر پہلی رات ہی والدہ صاحبہ نے رویا میں دیکھا کہ والد صاحب تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں۔میں آپ کے لئے پالکی لے آیا ہوں۔اب آپ جس وقت تیار ہو جائیں ہم روانہ ہو جائیں۔والدہ صاحبہ نے کہا میں تو تہجد کے وقت تیار ہو جاؤں گی اور اس وقت چلنا بھی مناسب ہوگا۔تا کہ زیادہ گرمی ہونے