میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 49 of 102

میری والدہ — Page 49

۴۹ ۵ ستمبر کو ہم قادیان سے روانہ ہو کر واپس اپنے وطن ڈسکہ کو گئے۔والدہ صاحبہ نے خاکسار کو تاکید کی کہ ڈسکہ ایسے وقت میں پہنچیں کہ کسی نماز کا وقت ہو، تا پہنچتے ہی نماز میں مصروف ہو جائیں اور جو مستورات ماتم پرسی کے لئے آئیں۔انہیں کسی قسم کی جزع فزع کا موقعہ نہ ملے۔چنانچہ جب ہم ڈسکہ کے قریب پہنچے۔تو ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔والدہ صاحبہ نے رستہ میں ہی وضو کر لیا اور مکان پر پہنچتے ہی نماز شروع کر دی۔اس موقعہ پر ہمارے گاؤں کی ایک غیر احمدی عورت نے والدہ صاحبہ سے بیان کیا کہ کل یعنی ۴ ستمبر کو مجھے شدید تپ تھا اور بحر ان کی حالت تھی میں نے بے ہوشی میں دیکھا کہ میاں جماں ( جو والد صاحب کے کارندہ تھے اور اُن کے ساتھ ہی حج بھی کر چکے تھے ) مجھ سے کہتے ہیں چلو تمہیں قادیان لے چلوں۔میں اُن کے ساتھ روانہ ہو پڑی اور تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ انہوں نے کہا وہ دیکھو قادیان ہے۔سامنے ایک باغ تھا۔ہم اس میں داخل ہو گئے۔باغ میں ایک مکان تھا۔ہم اُس کے برآمدہ میں داخل ہوئے۔تو سامنے کے دالان میں ایک پلنگ بچھا ہوا دیکھا۔جس پر چوہدری صاحب ( یعنی والد صاحب بیٹھے قرآن کریم پڑھ رہے تھے اور ایک جوان خوبصورت عورت پاس کھڑی پنکھا ہلا رہی تھی۔کمرے میں مختلف قسم کے پھل رکھے ہوئے تھے۔چوہدری صاحب نے ہمیں اندر بلا لیا اور اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ظفر اللہ خان کی والدہ سے کہدینا کہ میں بہت خوش ہوں۔پھر میں ہوش میں آگئی اور میں نے دیکھا کہ میرا تپ بالکل اتر گیا ہے اور میں بالکل صحت میں ہوں۔والدہ صاحبہ کی میرے ساتھ رہائش والد صاحب کا منشاء تھا کہ اُن کی وفات کے بعد والدہ صاحبہ اپنی مستقل رہائش خاکسار کے پاس ہی رکھیں اور انہوں نے اپنی آخری بیماری میں ایک رنگ میں اپنی