میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 44 of 102

میری والدہ — Page 44

میں نے کہا۔” آپ اُداس تو نہ ہوں گے۔تھوڑے ہی وقفہ کے بعد اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ملاقات ہو جائے گی۔انہوں نے جواب میں فرمایا ”نہیں میں اپنے مولیٰ کی رضا پر راضی ہوں“۔اُسی دن سہ پہر کو عزیزان شکر اللہ خان اور اسد اللہ خان پہنچ گئے اور بعض اور عزیز اور رشتہ دار بھی آگئے۔جمعرات کے دن دوپہر کے وقت سانس کی جو تکلیف تھی وہ ختم ہوگئی۔نقاہت کو بڑھ رہی تھی۔لیکن ہوش پوری طرح قائم تھے۔دو پہر کے بعد والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ جب ذرا میری ذرا آنکھ لگ جاتی ہے۔تو مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کمرہ مختلف قسم کے پھلوں سے بھرا ہوا ہے اور نہایت عمدہ خوشبو آ رہی ہے اور میری طبیعت میں اب کسی قسم کی بے چینی نہیں ہے۔چونکہ دل متواتر کمزور ہورہا تھا۔اس سہ پہر کو ڈاکٹر صاحب بار بار دل کو طاقت دینے کے لئے ٹیکا کرتے تھے۔والد صاحب فرماتے تھے کہ ٹیکے کرنے کی اب ضرورت نہیں۔لیکن اس خیال سے کہ علاج میں دخل نہیں دینا چاہئے بالکل انکار بھی نہیں کرتے تھے۔ایک وقت مجھے جو بہت افسردہ دیکھا تو فرمایا۔بیٹا یہ وقت آیا ہی کرتے ہیں“۔عصر کے بعد بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر تشریف لائے اور خاکسار کو بلا بھیجا۔صندوق اور موٹروں کا انتظام اُن کے سپر د تھا۔اُنہوں نے بتایا کہ صندوق تیار ہے اور مسجد میں رکھوا دیا گیا ہے۔موٹریں کرایہ پر کر لی گئی ہیں اور نصف شب کے بعد ۲ بجے یہاں آجائیں گی۔پھر دریافت کیا کہ چوہدری صاحب کیسے ہیں؟ میں نے بتایا کہ میں اُن کے پاس سے باتیں کرتا ہی اُٹھ کر آیا ہوں۔مغرب سے تھوڑی دیر پہلے عزیز عبداللہ خان اور ہمشیرہ صاحبہ بھی پہنچ گئے۔عبداللہ خاں نے جب والد صاحب سے مصافحہ کیا تو اُن کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔والد صاحب نے تھوڑی دیر کے بعد اپنا ہاتھ آزاد کر کے خاکسار کی ران پر رکھ دیا اور کہا: ”میاں میں اسے یہاں رکھنا چاہتا ہوں“۔