میری والدہ — Page 9
گئی۔جن میں اُن کے ایمان کی پوری پوری آزمائش کی گئی۔لیکن وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کے رحم سے ہر موقعہ پر ثابت قدم رہیں اور کسی وقت بھی اُن کے قدم جادہ صدق سے ادھر ادھر نہیں بھٹکے - تفصیل تو ان واقعات کی بہت لمی ہے۔اختصار کے ساتھ دو تین واقعات بطور مثال کے بیان کر دیتا ہوں۔جن سے اس امتحان کی نوعیت اور والدہ صاحب کے صدق اور ایمان کی وضاحت ہو جائے گی۔ہمارے سب سے بڑی بھائی کا نام بھی ظفر ہی تھا۔والدہ صاحبہ ان سب بچوں میں سے ظفر اور رفیق کا نہایت محبت کے ساتھ ذکر فرمایا کرتی تھیں اور اُن کی خوش شکلی کی بہت تعریف کیا کرتی تھیں۔ظفر ا بھی چند ماہ کا ہی تھا کہ والدہ صاحب کو داتا زید کا جانے کا اتفاق ہوا۔اُن کے گاؤں میں ایک بیوہ عورت کے دیوی نام تھی۔جسے لوگوں نے چڑیل یا ڈائن مشہور کر رکھا تھا اور وہ بھی اس شہرت یا بدنامی کا فائدہ اٹھالیا کرتی تھی۔اس موقعہ پر وہ والدہ صاحبہ سے ملنے کے لئے آئی اور اُن سے کچھ پار چات اور کچھ رسد اس رنگ میں طلب کی۔جس سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ گویا یہ چیزیں ظفر پر سے بلا ٹالنے کے لئے ہیں۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا کہ تم ایک مسکین بیوہ بورت ہو۔اگر تم صدقہ یا خیرات کے طور پر کچھ طلب کرو۔تو میں خوشی سے اپنی توفیق کے مطابق تمہیں دینے کے لئے تیار ہوں۔لیکن میں چڑیلوں اور ڈائینوں کی مانے والی نہیں۔میں صرف اللہ تعالی کو موت اور حیات کا مالک مانتی ہوں اور کسی اور کا ان معاملات میں کوئی اختیار تسلیم نہیں کرتی۔ایسی باتوں کو میں شرک سمجھتی ہوں اور ان سے نفرت کرتی ہوں۔اس لئے اس بناء پر میں تمہیں کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔جے دیوی نے جواب میں کہا کہ اچھا تم سوچ لو۔اگر بچے کی زندگی چاہتی ہو۔تو میرا سوال تمہیں پورا ہی کرنا پڑے گا۔چند دن بعد والد و صلاب ظفر کو غسل دے رہی تھیں کہ پھر ہے دیوی آگئی اور بیچے