میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 10 of 102

میری والدہ — Page 10

کی طرف اشارہ کر کے دریافت کیا: اچھا یہی ساہی راجہ ہے؟“ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔”ہاں یہی ہے۔جے دیوی نے پھر وہی اشیاء طلب کیں۔والدہ صاحبہ نے پھر وہی جواب دیا جو پہلے موقعہ پر دیا تھا۔اس پر جے دیوی نے کچھ برہم ہو کر کہا: اچھا اگر بچے کو زندہ لے کر گھر لوٹیں۔تو سمجھ لینا کہ میں جھوٹ کہتی تھی۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔جیسے خدا تعالیٰ کی مرضی ہوگی وہی ہوگا"۔والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ ابھی کے دیوی مکان کی ڈیوڑھی تک بھی نہ پہنچی ہوگی کہ غسل کے درمیان ہی ظفر کو خون کی قے ہوئی اور خون ہی کی اجابت ہوگئی۔چند منٹوں میں بچے کی حالت دگرگوں ہوگئی اور چند گھنٹوں کے بعد وہ فوت ہو گیا۔والدہ صاحبہ نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی۔یا اللہ تو نے ہی دیا تھا اور تو نے ہی لے لیا۔میں تیری رضاء پر شا کر ہوں۔اب تو ہی مجھے صبر عطا کیجیو۔اس کے بعد خالی گود ڈسکہ واپس آئیں۔پھر کچھ عرصہ بعد رفیق پیدا ہوا۔ظفر سے بھی زیادہ پیارا اور خوش شکل۔میرے دادا صاحب نے والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ جب تک یہ بچہ چلنے پھرنے لگے اور آپ سے الگ رہنے کے قابل نہ ہو جائے آپ کو دا تا زید کا جانے نہ دیں گے۔رفیق قریباً دو سال کا ہو گیا اور والدہ صاحبہ اس عرصہ میں ڈسکہ میں ہی مقیم میں۔پھر ان کے خاندان میں کوئی وفات ہوگئی اور مجبوراً انہیں دا تا زید کا جانا پڑا۔میرے دادا صاحب نے صرف ایک ہفتہ یا دس دن وہاں ٹھہرنے کی اجازت دی۔بلکہ پہلے تو فرمایا کہ رفیق کو ڈسکہ ہی چھوڑ جائیں۔لیکن یہ والدہ صاحبہ کو منظور نہ ہوا۔دا تا زید کا پہنچنے کے ایک آدھ دن بعد پھر جے دیوی آئی اور اُس نے اپنا پرانا مطالبہ پیش کیا اور والدہ صاحبہ نے پھر وہی جواب دیا۔اس موقعہ پر میرے نانا