میری والدہ — Page 6
جب بھی میری نانی صاحبہ کو میرے والد صاحب کے ساتھ ملنے کا اتفاق ہو ا کرتا۔تو دونوں بہت دیر رات گئے تک آپس میں باتیں کرتے رہا کرتے تھے۔میری نانی صاحبہ ایک نہایت ہی عابدہ زاہدہ با صبر اور با ہمت عورت تھیں۔اس زمانے میں جب دیہات میں عورتوں کی تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی تھی۔اُن کے والد صاحب نے اُن کو باقاعدہ طب پڑھوانے کا انتظام کیا تھا اور وہ طلب میں اچھی خاصی مہارت رکھتی تھیں۔چنانچہ اُن کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ گو صاحبہ طب نہیں پڑھی تھیں۔لیکن عام بیماریوں کا رسمی علاج وغیرہ جانتی تھیں اور بعض دفعہ تو سخت بیماری کی حالت میں بھی نسخہ تجویز کرنے کی جرات کر لیتی تھیں اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم سے مریض کو شفا بھی عطا کر دیتا تھا۔والدہ صاحبہ کی شادی میں نے ذکر کیا ہے کہ یہ زمانہ ہمارے ننھیال میں نسبتا خوشحالی کا زمانہ تھا اور ہمارے اپنے گھر میں نسبتا تنگی کا زمانہ تھا۔میرے والدین نکاح کے وقت ابھی دونوں بچے ہی تھے۔رخصتانہ نکاح کے چند سال بعد ہوا۔جب نے سسرال آنا جانا شروع کیا۔میرے والد صاحب لاہور اور منٹل کالج میں پڑھا کرتے تھے اور اس زمانے کی معاشرت کے مطابق کو اپنا تمام وقت میری دادی صاحبہ کی ہدایات کے ماتحت گزارنا پڑتا تھا۔یوں تو ان دونوں کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی۔لیکن یہ زمانہ کے لئے کافی نخی کا زمانہ تھایا کی طبیعت بچپن سے بہت حساس تھی اور اُن کی صحت بھی اچھی نہیں رہتی تھی۔اس لئے سرال کی رہائش کا زمانہ اُن کے لئے اور بھی دوبھر ہو اکرتا تھا۔والد صاحب کو طالب علمی کی وجہ سے بہت کم عرصہ گھر پر رہنے کا موقعہ ملا کرتا تھا اور ان سے جدائی والدہ صاحب کو بہت شاق تھی۔لیکن یہ سب کچھ انہیں خاموشی سے برداشت کرنا پڑتا تھا۔میرے دادا