میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 56 of 102

میری والدہ — Page 56

۵۶ میرا احساس ہے کہ وہ ہمارے خاندان میں سے ہی کوئی شخص ہے اور جو ایک سفید چادر میں ملبوس ہے۔سہارا دیکر زینہ سے اتار رہے ہیں۔اس کے بعد میں بیدار ہو گئی اور پھر خواب میں دیکھا کہ کسی شخص نے مجھے ایک نوٹ بک دی۔میں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے ؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ جلال الدین کا تبادلہ ہو گیا ہے یہ اُس کے حساب کی کتاب ہے۔اُن کے خواب سننے کے بعد خاکسار نے کہا کہ پھر تو آپ آج سفر کرنے کے قابل نہ ہوں گی۔والدہ صاحبہ نے ذرا چونک کر دریافت کیا کیا ہوا؟ میں نے تار کا مضمون سنا دیا۔والدہ صاحبہ کی جرات اللہ تعالی نے والدہ صاحبہ کو جرات اور حوصلہ بھی بہت عطا فر مایا تھا۔کسی کے دُکھ یا درد کی حالت دیکھ کر سُن کر اُن کا دل فوراً پکھل جاتا تھا۔بعض دفعہ کسی بچے کے رونے کی آواز اُن کے کان میں پڑ جاتی تھی۔تو ان کی نیند اُچاٹ ہو جاتی تھی لیکن اگر کوئی موقعہ ایسا پیش آ جائے جہاں انہیں اپنی ہی ہمیت پر انحصار کرنا پڑ جائے۔تو ایسے وقت میں وہ اپنی تمام کمزوریوں کو فراموش کر دیتی تھیں اور مردانہ حوصلہ کا نمونہ دکھاتی تھیں۔۱۹۳۳ء کا واقعہ ہے خاکسار انگلستان گیا ہوا تھا۔والدہ صاحبہ ان دنوں ماڈل ٹاؤن میں مقیم تھیں۔ایک روز ظہر یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے سلام پھیر نے پر سامنے کے ایک مکان پر اُن کی نظر پڑی۔جہاں عمارت کا کام ہورہا تھا۔ایک معمار ا تفاق سے اُس وقت اپنے ہاتھ سے ہمارے زنانہ محن کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ایک مزدور اُس کے پاس کھڑا تھا۔والدہ صاحبہ نے جب اس واقعہ کی تفاصیل خاکسار کو سنا ئیں۔تو اس حصہ کے متعلق فرمایا کہ ایک لحظہ کے لئے میرے دل میں یہ خیال گزرا کہ شاید یہ معمار ہمارے مکان کی طرف اشارہ کر کے اس مزدور کو اس بات پر آمادہ کر رہا ہے