میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 35 of 102

میری والدہ — Page 35

۳۵ اُس کے نیچے کوئی کل ہے۔جس کے زور سے وہ بلند ہورہی ہے۔جو نبی یہ روشنی نمودار ہوئی۔اکثر لوگ اُسکی طرف متوجہ ہو گئے اور دوڑ کر اس سے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگے۔تاکہ اس نور کو قریب سے دیکھ سکیں۔والدہ صاحبہ بھی اس روشنی کی رف بڑھیں اور والد صاحب کو آواز دی کہ جلد آئیں اور قریب سے اس نور کو دیکھیں۔ورنہ جب یہ نو ر قد آدم سے اوپر چلا جائے گا۔تو اس کے دیکھنے کا وہ لطف نہ رہے گا۔جو زمین کے قریب اسے دیکھنے میں ہے۔چنانچہ والد صاحب بھی والدہ صاحبہ کے پیچھے اس نور کی طرف جلد جلد بڑھنے لگے اور دونوں کے دیکھتے دیکھتے یہ نور بلند ہوتا گیا اور پھیلتا گیا۔حتیٰ کہ آسمان تک بلند ہو گیا اور اُس کی روشنی سے تمام میدان منور ہو گیا۔والدہ صاحبہ نے دیکھا کہ بعض لوگ جو اوور کوٹ اور ترکی ٹوپیاں پہنے ہوئے ہیں۔کچھ فاصلہ پر ایک نہر کے کنارے کھڑے ہیں اور اس نور کی طرف اُن کی التفات نہیں۔والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں اور کیوں اس روح افزاء نظارہ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔والد صاحب نے جواب دیا کہ یہ لوگ پانی کی رو کو دیکھ رہے ہیں کہ کس طرف سے آتا ہے اور کس طرف کو جاتا ہے۔والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے والد کی طرف سے جب اس موقعہ پر بیعت کرنے میں تو قف ہوا۔تو مجھے سخت گھبراہٹ ہونے لگی۔میں بہت دعائیں کیا کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلد صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے مکان پر اُن دنوں بہت جمگھٹا لگا رہا کرتا تھا اور اختلاف کے متعلق بحث جاری رہا کرتی تھی۔ایک دن جب بہت سے لوگ جمع تھے اور زور شور سے بحث جاری تھی۔یہاں تک کہ بعض لوگوں کی آوزیں دوسری منزل پر بھی پہنچ جاتی تھیں۔میری طبیعت میں بہت قلق پیدا ہوا کہ تمہارے والد کیوں جلد فیصلہ نہیں کرتے اور کیوں اس قدر لمبی بحثوں میں پڑ رہے ہیں اور اسی جوش میں میں نے سیڑھیوں کے