میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 33 of 102

میری والدہ — Page 33

۴۴ نکل گیا۔انگلستان میں خاکسار کے قیام کا عرصہ والدہ صاحبہ کے لئے بہت ہی پریشانی کا زمانہ تھا۔خاکسار تو اتنا ہی کر سکتا تھا کہ ہر ڈاک میں با قاعدہ خط لکھتا رہتا۔چنانچہ اس میں خاکسار نے اس تمام عرصہ میں کبھی ناغہ نہیں ہونے دیا۔انگلستان جانے کے وقت خاکسار کی عمر اٹھارہ سال کی تھی۔وہاں پہنچ کر جب طبیعت میں جدائی کا احساس پیدا ہوا اور والدین کی شفقت کا حقیقی اندازہ ہونے لگا۔تو خاکسار کے دل میں بھی اپنے والدین کے لئے ایک نئی محبت پیدا ہوگئی اور متواتر ترقی کرتی گئی۔چنانچہ ایک موقعہ پر خاکسار نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں خصوصیت سے ایک عہد کے طور پر لکھا کہ میں اپنے دل میں آپ کے لئے محبت کا ایک بحر بے پایاں اپنے ساتھ لاؤں گا اور یہ جذ بہ بڑھتا چلا جائے گا اور اس میں انشاء اللہ بھی کمی نہیں آئے گی۔اس عہد کے اظہار کے بعد اللہ تعالیٰ نے والدہ صاحبہ کو پچیس برس اور زندگی عطا فرمائی اور خاکسار کو اپنے فضل اور رحم سے اس عہد کے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک۔اب جبکہ وہ اپنے مولیٰ کے حضور چلی گئیں ہیں اور ہمارے درمیان ظاہری اور عارضی جدائی ہو گئی ہے میرے دل کی وہی کیفیت ہے بلکہ محبت اور حسرت نے مل کر ایک عجیب نئی کیفیت پیدا کردی ہے۔ان کے احساسات کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔کر مارچ ۱۹۱۴ ء میں جب خاکسار بھی انگلستان ہی میں تھا۔حضرت خلیفہ ایج اول رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔والد صاحب نے خاکسار کو لکھا کہ حضور کی وفات پر جماعت میں یوں اختلاف ہو گیا ہے۔یہ ایمان کا معاملہ ہے۔میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے۔صرف اتنا کہتا ہوں کہ جو کچھ کرو۔غور اور فکر کے بعد کرنا۔جلدی نہ کرنا اور والدہ صاحبہ نے خاکسار کو دیکھوایا کہ جماعت میں یہ طوفان برپا ہو گیا ہے۔میں نے حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی بیعت کر لی ہے اور تمہارے