میری والدہ — Page 14
۱۴ تمہاری پھوپھی مبارک بی بی نے ایک چھوٹی سی پیالی میں ایک سوئی تیار کر کے رکھی ہوئی ہے۔جس میں دھاگے کی بجائے ایک بال ڈالا ہوا ہے۔میں نے دریافت کیا کہ یہ کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ آپ کی خواب کے مطابق اونٹ کا بال منگوایا گیا ہے۔تا کہ بچے کی ناک اس سے چھید دی جائے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں تو ایسا ہرگز نہیں کرنے دونگی۔پھوپھی صاحبہ نے کہا کہ بھائی جان (میرے والد صاحب) فرماتے تھے کہ کوئی ہرج نہیں۔جیسے خواب میں کہا گیا ہے۔ویسے کر دیا جائے اور ایک چراغ بھی آئے بھی اور ہلدی کا بنالیا گیا ہے۔والدہ صاحبہ نے فرمایا یہ سب مشرکانہ باتیں ہیں۔میں ہرگز ایسا کرنے کی اجازت نہ دونگی۔میرے بچے کو اگر اللہ تعالی زندگی دیگا۔تو بچ رہے گا۔میں اپنا ایمان ہرگز ضائع نہیں کرونگی۔چنانچہ اونٹ کا بال اور چراغ دونوں پھینک دیئے گئے اور نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنا ایمان پھر محفوظ رکھا۔جے دیوی نے کافی لمبی عمر پائی۔لیکن بے چاری کی زندگی مصیبت ہی میں گزری۔لوگوں نے چڑیل مشہور کر رکھا تھا۔اس لئے اکثر لوگ اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور جب وہ ضعیف ہوگئی۔تو کھانے پینے کو بھی محتاج ہوگئی اور کوئی شخص حتی الوسع اُس کے نزدیک نہیں جاتا تھا۔حتی کہ اُس کی آخری بیماری میں اُسے پانی پلانے والا بھی کوئی نہیں ملتا تھا اور وہ کچھ دن بہت تکلیف اور کرب کی حالت میں پڑی رہی۔آخر تنگ آکر اُس نے اپنی چار پائی کو آگ لگادی اور اُسی آگ میں جل کر مر گئی۔دادا صاحب کی وفات جب میرے دادا صاحب کی وفات ہوئی۔اُس وقت میری عمر پورے پانچ برس کی تھی۔اُن کی بیماری میں میرے والد صاحب ہر روز شام کو ڈسکہ چلے جایا کرتے