میری والدہ — Page 13
۱۳ کھیل رہا ہے۔تب مجھے یقین ہو گیا کہ میرے مولی نے میری : عاشن لی اور میرا دل اس کے شکر سے معمور ہو گیا۔ڈسکہ پہنچے تو میرے دادا صاحب بہت خوش ہوئے کہ یہ لوگ وعدہ سے پہلے ہی واپس آگئے۔پوتے کو گود میں لیا اور پیار کیا اور جنسی جنسی اس سے باتیں کرتے رہے اور اس طرح دن گزرتے گئے۔والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں دادا پوتے کو خوش خوش دیکھ کر مسکرایا کرتی تھی کہ رفیق تو نہیںیہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت نہیں رہی اور مسکرا رہی ہے۔رفیق تو خدا تعالی کی نذر ہو چکا ہوا ہے۔چنانچہ پورے دس دن گزرنے پر رفیق پر کھیلتے کھیلتے وہی حالت وارد ہو گئی۔جو دا تا زید کا میں ہوئی تھی۔اسی طرح اُسے خون آیا اور چند گھنٹوں میں وہ اپنے مولی کے پاس چلا گیا۔میر کی والدہ کی گود پھر خالی ہوگئی۔لیکن پھر انہوں نے خوشی خوشی اللہ تعالیٰ کی رضا کو قبول کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ تو نے ایک عاجز انسان کی زاری پر اس کے حال پر رحم فرمایا اور اس کی آبرو کی حفاظت کی۔میری پیدائش میری پیدائش 4 فروری ۱۸۹۳ء کو بمقام سیاللوٹ ہوئی۔اس سے پہلی رات والدہ صاحبہ نے پھر جے دیوی کو خواب میں دیکھا۔اُس نے انہیں بتایا کہ فلاں وقت لڑکا پیدا ہو گا۔لیکن ساتھ ہی کہا کہ بعض احتیاطیں ضروری ہیں۔ایک تو یہ کہ پیدا ہوتے ہی لڑکے کی ناک چھید دینا اور اونٹ کا بال چھید میں ڈال دینا۔دوسرے ایک چراغ آئے اور گھی اور بلدی کا بنا کر کل رات اپنے مکان کی سب سے اوپر کی منزل کی چھت کے اُس کونے پر جہاں چیل بیٹھا کرتی ہے، جلاد بنا۔یہ خواب والدہ صاحبہ نے والد صاحب کو بنا دی۔میں اُس وقت جو خواب میں بتلا یا گیا تھا۔میری پیدائش ہوئی اور والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ میں نے دیکھا کہ