میری والدہ — Page 93
۹۳ کرے کہ کیا میر اوقت پر پہنچنا ممکن ہے یا نہیں؟ اگر ایسا ہو سکا تو میری یہ خواہش کہ میں ان کا جنازہ پڑھا کر انہیں دفن کر سکوں پوری ہو جائے گی۔ورنہ اللہ تعالی کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم ہے۔مرحومہ کا اخلاص اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحومہ کے خاوند چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم ایک نہایت مخلص اور قابل قدر احمدی تھے اور انہوں نے سب سے پہلے میری آواز پر لبیک کہی اور اپنی زندگی وقف کی اور قادیان آ کر میرا ہاتھ بٹانے لگے۔اس لئے ان کے تعلق کی بناء پر ان کی اہلیہ کا مجھ پر اور میری وساطت سے جماعت پر ایک حق تھا۔پھر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب جنہوں نے اپنی عمر کے ابتدائی حصہ سے ہی رشد و سعادت کے جوہر دکھائے ہیں اور شروع ایام خلافت سے ہی مجھ سے اپنی محبت اور اخلاص کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں۔مرحومہ ان کی والدہ تھیں اور اس تعلق کی بناء پر بھی ان کا مجھ پر حق تھا۔لیکن باوجود اس کے کہ اکثر عورتوں کا تعلق طفیلی ہوتا ہے یعنی اپنے باپ پا بیٹے یا بھائی کے سبب سے ہوتا ہے۔مرحومہ ان مسکنی عورتوں میں سے تھیں۔جن کا تعلق براہ راست اور بلا کسی واسطہ کے ہوتا ہے۔وہ اپنے مرحوم خاوند سے پہلے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئیں ان سے پہلے انہوں نے بیعت خلافت کی اور ہمیشہ غیرت و حمیت کا ثبوت دیا۔چندوں میں بڑھ بڑھ کر حصہ لینا، غرباء کی امداد کا خیال رکھنا ان کا خاص امتیاز تھا۔دعاؤں کی کثرت اور اس کے نتیجہ میں کچی خوابوں کی کثرت سے خدا تعالیٰ نے ان کو عزت بخشی تھی۔انہوں نے خوابوں سے احمدیت قبول کی اور خوابوں سے خلافت ثانیہ کی بیعت کی۔مرحومہ کی وائسرائے ہند سے گفتگو مجھے ان کا یہ واقعہ نہیں بھول سکتا جو بہت سے مردوں کے لئے بھی نصیحت کا موجب بن سکتا ہے کہ گزشتہ ایام میں جب احراری فتنہ قادیان میں زوروں پر تھا اور