میری والدہ

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 92 of 102

میری والدہ — Page 92

۹۲۰ میں نے والدہ صاحبہ کا وہ خواب یاد کر کے جس میں انہوں نے دیکھا تھا کہ اندھیرے میں ایک خیمہ کے اندر کیچڑ میں پھنس گئی ہیں اور فرمایا تھا کہ ظفر اللہ خاں کو کوئی خبر کرے۔تو وہ مجھے یہاں سے نکلوانے کا انتظام کرے۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے رحمت کی دعا کرنی شروع کی۔سانس جو کچھ وقت پہلے تیز ہو گیا تھا۔ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ہلکا ہونا شروع ہو گیا اور جب گھر کے لوگ مہمان اور ملازم سب ناشتہ ختم کر چکے۔تو ۹ بجے کے قریب روح اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہوگئی۔یہ ۶ ارمئی سوموار کا دن تھا۔۱۲ بجے کے قریب جسم کو اس مقام پر سپر د خاک کر دیا گیا۔جو پہلے سے اس کی آخری قیام گاہ تجویز ہو چکا تھا۔و كل من علیها فان و يبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام حضرت خلیفہ امیج ایدہ اللہ نعرہ ان دنوں سندھ میں میں قیام فرما تھے۔صاحبزادگان میرزا بشیر احمد صاحب و میرزا شریف احمد صاحب و دیگر افراد خاندان نبوت نے جنازہ کو کندھا دیا۔لحد کے لئے ایک دوائیٹوں کی درستی کی ضرورت ہوئی۔تو صاحبزادہ میرزا شریف احمد صاحب نے اپنے ہاتھ سے انہیں درست کیا۔حضرت خلیفہ مسیح کی طرف سے یہ تعزیت نامہ والدہ صاحبہ کی وفات پر الفضل میں شائع ہوا: " چوہدری سر ظفر اللہ خانصاحب کی والدہ صاحبہ کی وفات ( رقم فرمودہ حضرت امیرالمومنین ایده الله ) آخر میں عزیزم چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب کی والدہ کی وفات کی خبر آئی ہے اور افسوس کہ اس وقت میں مرکز سے بہت دور ہوں اور آسانی سے میرا وہاں پہنچنا اور جنازہ میں شامل ہونا مشکل نظر آ رہا ہے۔جس کا مجھے سخت افسوس ہے۔میں نے ابھی خبر سنتے ہی موٹر میں ایک آدمی کو میر پور خاص بھیجوا دیا ہے کہ فون کر کے دریافت